-->
logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
flower
flower
flower
flower
divider

غزل

تارا تارا اُتر رہی ہے رات سمندر میں
جیسے ڈوبنے والوں کے ہوں ہاتھ سمندر میں
 

ساحل پر تو سب کے ہونگے اپنے اپنے لوگ
رہ جائے گی کشتی کی ہر بات سمندر میں
 

ایک نظر دیکھا تھا اُس نے آگے یاد نہیں
کُھل جاتی ہے دریا کی اوقات سمندر میں
 

میں ساحل سے لوٹ آیا تھا کشتی چلنے پر
پگھل چکی تھی لیکن میری ذات سمندر میں
 

کاٹ رہا ہوں ایسے امجد یہ ہستی کی رہ
بے پتواری ناؤ پہ جیسے رات سمندر میں
 

divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig