logo
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower
flower

اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون!

ہم تو اسیرِ خواب تھے تعبیر جو بھی تھی

دامِ خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے

حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے

قاصد جو تھا بہار کا نا معتبر ہُوا

آنکھوں کو التباس بہت دیکھنے میں تھے

یہ گردبادِ تمنا میں گھومتے ہوئے دن

تیری زد سے نکلنا چاھتا ھے

چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے

دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے

کبھی رقص شام بہار میں اسے دیکھتے

حد سے توقعات زیادہ کیے ُہوئے

کوئی بھی لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا

اُداسی میں گِھرا تھا دِل چراغِ شام سے پہلے

اُلجھن تمام عُمر یہ تارِ نفس میں تھی!

آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے

زمین جلتی ہے اور آسمان ٹوٹتا ہے

کوئی   بھی   آدمی   پورا  نہیں  ہے

منظر کے اردگرد بھی اور آرپار دُھند

کسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہے

نہ ربط ہے نہ معنی ، کہیں تو کس سے کہیں!

جو کچھ دیکھا جو سوچا ہے وہی تحریر کر جائیں

اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا

پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم

اب کے سفر ہی اور تھا‘ اور ہی کچھ سراب تھے

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی

دِل کو حصارِ رنج و اَلم سے نکال بھی

اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے

ہاتھ پہ ہاتھ دَھرے بیٹھے ہیں‘ فرصت کتنی ہے

حضورِ یار میں حرف التجا کے رکھے تھے

ہر قدم گریزاں تھا‘ ہر نظر میں وحشت تھی

خواب نگر ہے آنکھیں کھولے دیکھ رہا ہوں

نکل کے حلقہ شام و سحر سے جائیں کہیں

شمعِ غزل کی لَو بن جائے‘ ایسا مصرعہ ہو تو کہو

یہ کون آج مِری آنکھ کے حصار میں ہے

زیرِ لب یہ جو تبسّم کا دِیا رکھا ہے

یہ دشتِ ہجر‘ یہ وحشت‘ یہ شام کے سائے

اوروں کا تھا بیان تو موجِ صدا رہے

نہ آسماں سے نہ دُشمن کے زور و زَر سے ُہوا

مقتل میں بھی اہل جنوں ہیں کیسے غزل خواں‘ دیکھو تو

کہیں بے کنار سے رتجگے‘ کہیں زر نگار سے خواب دے

اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتاہے

دستک کسی کی ہے کہ گماں دیکھنے تو دے

چہرے پہ مرے زُلف کو پھیلاؤ کسی دن

ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو

تارا تارا اُتر رہی ہے رات سمندر میں

اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے

آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے

ہر شخص کی خُوں رنگ قبا ہے کہ نہیں ہے

میں بے نوا ہوں ،صاحبِ عزت بنا مجھے

divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig
Home
Urdu Index