logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

نئے پرانے .......ایک مطالعہ امجد اسلام امجد
زاہد حسن

اور یہ بات صحیح ہے کہ خواجہ درد کے یہاں تصوف اپنے حقیقی رنگ روپ میں سامنے آتا ہے-اس کے سامنے ہمارے موجود پنجابی شاعروں کی مانند کوئی ریڈی میڈ کلیہ نہ تھا جس کو اوڑھ کردہ اپنے آپ کو مزاحمتی یا علامتی صوفی کہلوا سکتا....!
مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے فیض کے حوالے سے ایک جگہ پڑھا کہ انہوں نے کسی کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”تم سودا کو پڑھا کرو وہ بندے‘ پر ہر بار ایک نئی جہت وا کشا کرتا ہے- “بے شک کلاسیکی شاعری میں سودا کا ایک اپنا مقام ہے اور عام طور پر اس کو ایک قصیدہ گو شاعر کے طور پر سمجھا جاتا رہا ہے لیکن امجد اسلام امجد نے سودا کی شاعری کی لاتعداد پر تیں وا کی ہیں- لکھتے ہیں:
”مجھے سودا کی شخصیت ہمیشہ فطرت سے قریب تر محسوس ہوتی ہے -اسے غصہ آتاہے تو وہ ہجو لکھتا ہے‘ عشق کرتا ہے تو غزل کہتا ہے- اردگرد دیکھتا ہے تو شہر آشوب لکھتا ہے‘ زندہ رہنے کی سوچتا ہے تو قصیدہ نگاری کرتا ہے اور جب کوئی دشمن مر جائے تو اسے ایک باوضع اور شریف آدمی کی طرح معاف بھی کر دیتاہے‘ بظاہر دیکھنے میں یہ ساری خصوصیات ایک نارمل انسان کی ہیں لیکن سودا کا نارمل ہونا ہی اس کا اصل پرابلم ہے-“
نظیر اکبر آبادی جیسے عوام سے قریب تر شاعر کے بارے میں لکھتے ہیں-
’کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نظیر‘ صوفی نہ ہوتے ہوئے بھی علاقائی زبانوں کے درویش اور صوفی شاعروں کے قبیلے سے تھا‘ کبھی اسے شاہ حسین‘ باہو‘ بلھے شاہ‘ خواجہ فرید اور وارث شاہ‘ بھگت کبیر‘ تلسی داس اور میرا بائی کے ساتھ ملا کر پڑھیے.... ہوسکتا ہے آپ میرے اس احساس کی تائید کریں-“
”مصحفی کا کمال یہ ہے کہ اس نے دلی سکول کے شاعروں سے جو کچھ ورثے میں حاصل کیا‘ اسے لکھنو کے مزاج سے اس طرح مربوط کیا ہے کہ دونوں دبستانوں کے اچھے پہلو یکجا ہوگئے ہیں- مصحفی دلی اور لکھنو کی ادبی روایت کے مابین سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور یوںمصحفی نے اپنے بعد آنے والے بہت سے شعراءکو فکر اور زبان دونوں حوالوں سے متاثر کیاہے.... یہ حقیقت ہے کہ مصحفی نے اردو غزل کو مجرد تجربوں کے ہجوم سے نکال کر اسے معاشرتی حوالوں اور زندہ تجربوں سے روشناس کروایا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے-“
امجد اسلام امجد لکھتے ہیں-
”اگرچہ مصحفی کو کبھی بھی میر‘ سودا اور درد کے پائے کا شاعر نہیں سمجھا گیا لیکن آج کی غزل کے مجموعی مزاج میں اس کا اثر کسی طور بھی ان تینوں سے کم نہیں ہے -بلکہ میں تو یوں کہوں گا کہ آج کے مقبول شعراءفراق‘ فیض اور فراز پر سب سے زیادہ اثر مصحفی کا ہے-“
اس طرح سے امجد اسلام امجد اردو شاعری میں حزنیہ کیفیات کی روایت سے نکل کر وہ آتش کے پاس آتے ہیں‘ آتش جو اردو شاعری میں ایک نشاط کی علامت ہے-غالب کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن امجد اسلام امجد کے مختصر الفاظ میں اتنا کہنا ہی کافی ہے-
”غالب اردو شاعری کا بہترین جینئس ہے- اس کے ہاں میر کی دلگدازی اور اقبال کی گھن گرج دونوں نہیں ہیں‘ اس کے باوجود محض اپنے بے مثال شعری وژن کی وجہ سے بہتر اور منفرد شاعر ہے-“
اقبال کے رنگ میں لکھنے والا ہر دوسرا شاعر کچھ بودا سا نظر آتا ہے- اقبال پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ صاحب زبان شاعر نہیں ہے- کہنے والے صحیح کہتے ہیں کیونکہ ہر زمین اور ہر نسل اپنے کچھ معیارات رکھتی ہے- پنجاب کی سرزمین نے سدا اپنے لئے ایسے فنکاروں کا انتخاب کیا ہے جو اپنی دھرتی کی حفاظت کرسکیں اور اپنی دھرتی کی ثقافت کی حفاظت کرسکیں.... ”جبکہ لکھنو ور دہلی کی سرزمین سے حتیٰ کہ آگرہ اور دکن میں پیدا ہونے والے شعراءاپنی تہذیب کا پرچار اپنے شعری قد کاٹھ کے حوالے سے کرتے تھے جس طرح کہ جان صاحب وغیرہ وغیرہ.... امجد اسلام امجد نے صحیح کہا ہے کہ اقبال جدید شاعری کا نقطہ آغاز اور قدیم شعری روایت کا نقطہ اختتام ہے- اقبال کے بارے میں کہتے ہیں:
”عام اور گوارا حد تک اچھے شاعر‘ شاعری کی روایت میں زندہ رہتے ہیں‘ اقبال اور اقبال جیسے عظیم شاعروں میں خود شاعری کی روایت زندہ رہتی ہے اس لئے اقبال کے یہاں انیسویں صدی کے زوال پذیر تہذیبی ڈھانچے کے پس منظر میں قائم کئے گئے تصور غزل یا غنائیت کی تلاش نہ صرف بے مصرف ہے بلکہ احمقانہ بھی ہے- اقبال کے ہاں تغزل‘ غنائیت اور اثر پذیری دیکھنی ہو تو آپ کو اقبال کی اقلیم میں داخل ہونا پڑتا ہے-“
یوں دیکھا جائے تو امجد اسلام امجد نے انتخاب کی روایت کوایک نئی جہت عطا کی ہے- اس کتاب کو انتخاب کہنا تو ان کی کسر نفسی ہے ورنہ یہ ایک اچھی تنقیدی کتاب ہے جس میں کسی کو ذاتی پسند کے تحت بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے اور نہ ہی کسی کو ذاتی ناپسند کے تحت کم کرکے پیش کیا گیا ہے- یہ کتاب ادبیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ہر صاحب کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہے-


 

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig