


امجد اسلام امجد
شعراء کی نظر میں
فرحت پروین .........امریکہ
کون ہو تم؟
کون ہو تم؟
میں یہی سوچ رہی ہوں کب سے
تم فرشتے تو نہیں ‘ پھر کیونکر
نور میں گُوندھے الوہی نغمے
باغ ِ فردوس سے چَپکے سے چُرا لائے ہو
کوئی ساحر تو نہیں؟
باندھ لیتے ہو نظر
ذہن پر چھا جاتے ہو
نقش لفظوں سے وہ بُنتے ہو
کہ مسحور سی میں
خود کو کھو بیٹھتی ہوں دشتِ سُخن میں اکثر
کوئی سادھو تو نہیں
کسی پربت ‘ کسی بیلے میں کہیں
کسی تاریک گُپھا میں‘ کسی برگد کے تلے
دھیان میں گُم ہو رمائے دھونی
گنجلک بھیدوں کے‘ اسرار کو پانے کے لئے
کوئی درویش ہو کیا؟
بے نیازانہ جو تقسیم کئے جاتے ہو
خواب سب امن و محبت والے
بھید یہ کُھل گیا آخر تم پر
پوری دنیا میں محبت کے سِوا کچھ بھی نہیں
ساری یہ رونقِ ہستی ہے اِسی کے دَم سے
کوئی غواص ہو؟ مشتاق شناور؟ کیا ہو؟
بحرِ معنی سے جو یہ موتی اُٹھا لاتے ہو
کتنی دلِسوزی سے پھر انکو سجاتے ہو تم
کیسی کرتے ہومرصع کاری!
کیا ہومحبوب نگارِ فطرت؟
ساری سرسبز رُتیں‘ قوس قرح
سوندھی خوشبو سے مہکتی ہوئی‘ بارش کی صدا
اوس آئینے گلابی کلیاں
خود بخود سمت تمہاری یہ کھنچے آتے ہیں
ٹوٹ کر نخلِ فلک سے تارے
گر کے قدموں میں بچھے جاتے ہیں
کب سے ہوں بادیہ پیما میں اِسی منظر میں
اور تم ہونٹوں پہ مسکان سجائے چُپ ہو
مجھ کو حیرت سے نکالو‘ بولو
بولو‘ یہ بھید تو مجھ پر کھولو
کون ہو تم؟

