logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

زمستاں مری روح میں موجزن ہے
ڈاکٹر شاہین مفتی
۔3۔

وہ ہنسی اور بولی ”امجد کا کمال یہ ہے کہ اس نے اس میں جوتوں اور تولیے کا اضافہ کر دیا ہے- “
مائیک پر آواز ابھررہی تھی :۔
مری الماریوں کے ہینگروں میں اب بھی لٹکے ہیں
دلاسوں کا وہ گیلا تولیہ
اور ہچکیوں کاادھ گھلا صابن
کچھ برسوں میں گلزار کی نظم ”میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے “ بھی اسی تلازمے میں آشریک ہوئی__ موسم گریہ کی آنکھیں کلینڈر سے لگی تھیں ‘ زندگی اپنے صفحے الٹ رہی تھی ‘ ٹیلی ویژن کے تاریخ ساز ڈرامے ”وراث“ کاتخلیق کار جاگیر داری نظام کی کترنیں سمٹیے ہوئے زمیں زادوں کی جانب لوٹ آیا تھا ‘ سلیف میڈ لوگوں کی زندگی کی ٹریجڈی اس کے ٹھٹھرے ہوئی دل کو مزید لرزیدہ کر رہی تھی :۔
زندگی کے رستے میں‘ بچھنے والے کانٹوں کو
راہ سے ہٹانے میں
ایک ایک تنکے سے آشیاں بنانے میں
خوشبوئیں پکڑنے میں گلستان سجانے میں
عمر کاٹ دیتے ہیں
عمر کاٹ دیتے ہیں
اور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیں
آج اس نظم کو نقل کرتے ہوئے بہت برس پہلے ایلیٹ کی نظم ویسٹ لینڈ کی پڑھی ہوئی کچھ لائنیں آنکھوں میں دھندسی بکھیر رہی ہیں‘ وہ کہتا ہے :۔

I think we are in rat's alley
Where the dead men lost their bones
What is that noise?
The wind under the door
What is the noise now,what  is the wind doing ?
Nothing again nothing

میں جانتی ہوں امجد زندگی کی لایعنیت پر اعتبار کرنے والا شخص نہیں اور اس نے اپنی تنہائی سے بچنے اور بہت زیادہ زندہ رہنے کے لئے طرح طرح کی تفاصیل اور معروضیات کا راستہ اختیار کیا ہے‘ وہ گھنٹوں اثباتیت‘ خلوص ‘ قانون‘ محبت ‘ تعلقات اور ایسے ہی دوسرے گھمبیر مسائل پر ناصحانہ اور شاعرانہ گفتگو کر سکتا ہے - ہوسکتا ہے یہ اس کی وضع داری اور تابع فرمانی کا گہرا انگ ہوہوسکتا ہے ا س نے محبت کے دوہرے تہرے نظام میں اپنی ذات کاکھوج لگا لیا ہوا ور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اچھے بزنس مین کی طرح زندگی اور ٹوتھ پیسٹ کے اشتہار میں کوئی بنیادی فرق ہی محسوس نہ کرتا ہو لیکن کبھی کبھی اجنبی شہر کی بھوری اور بد نما دھند سے گذرتے ہوئے سردی کی ایک لہر ریڑھ کی ہڈی کو چھوکر اس کے دل میں ٹھہر جاتی ہے ‘ ہوا سیٹیاں بجاتی ہے ‘ امجد کا پرانا ناسٹلجیا جاگتا ہے‘ وہ آنکھوں پہ ہاتھ رکھے فنا کے رستے پر چلتے ہوئے پیچھے مڑ کے دیکھتا ہے‘ یہ وہی لمحہ ہے جس کے بارے میں ایلیٹ لکھتا ہے :۔

Who is third who walks always beside you?
When I count there are only you and I together
But when I look ahead up the white road
There is always another one walking beside you

اس خوش خیالی اور تیسرے آدمی کی موجودگی میں امجد کاکہنا ہے :۔
خزاں کے آخری دن ہیں
ہوا کے لمس میں اک بے صدا سی نغمگی محسوس ہوتی ہے
کوئی مانوس سی خوشبو مرے کانوں میں کہتی ہے
پھر اس کے حسن کا محرم ترا دل ہونے والا ہے
وہ اس کا ادھ کہا جملہ
مکمل ہونے والا ہے
زمستاں کی مار کھائے ہوئے زمستاں سے بندھے ہوئے لوگ کہیں دور ریگِ دشتِ فراق سے سوال کرتے ہیں :۔
آنکھوں میں جھلملاتے ہوئے آنسوﺅں کے پار
ملتی ہیں اس طرح سے زمانوں کی سرحدیں
چلتا نہیں پتہ
ہم پیچھے رہ گئے ہیں کہ آگے نکل گئے
ہتھیلی کی پشت پر آنسوﺅں کی نمی ہے ‘ ہوا ئے زمستاں دل کو چھو کر گذرگئی ہے‘ جواب موصول نہیں ہوتا ‘ اور امجد سوچتا ہے :۔
گھنی اداسی کی برف ”شاید“
”مرے“ لہو میں پگھل رہی ہے !!!

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig