logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

زمستاں مری روح میں موجزن ہے
ڈاکٹر شاہین مفتی
۔2۔

سیل امواج تمنا کیسے
ساحل دل سے پلٹ جاتا ہے
ہم سب جانتے ہیں وقت کے دشت بے برگ میں و اپسی کاکوئی راستہ نہیں چنانچہ ہمارا شاعر بھی خاک نما ہو کر سمندروں کے سفر کا ارادہ کرتا ہے‘ ایک ایسے خواب رفاقت کے لئے جو وقفہ ء خواب کا پابند نہیں‘ محبت کی بساط پر یہی اس کے کھیل کی کہانی ہے ‘ یہ کہانی اس کے وجودا ور لاوجود کو یکجائی عطا کرتی ہے ‘ وہ پل بھر رکتا ہے ‘ ادھر ادھر دیکھتا ہے ‘دانائی کے داﺅ پیچ سمجھتا ہے ‘اپنے آپ کو جُل دیتا ہے ‘ سودوزیاں کے حاصل گھاٹ سے سیرابی کاامیدوار ہے‘ ظاہرا حالت میں کئی طرح کے خوشنما پھول اس کے کوٹ کے کالر سے جھانکتے دکھائی بھی دیتے ہیں ‘ اس کی شعوری پیش بندی کے لئے دیر تک تالیوں کی آواز اور تحسین کی گونج کاالتزام بھی موجود ہے لیکن استقبال اور التفات کی سیٹرھیاں چڑھتے اترتے وہ کئی بار سوچتا ہے کہ اثبات وار تقا ءکایہ تو اتر کسی ان دیکھی فنا کے دائمی عذاب کی زد میں ہے ‘ اس نے لکھا ہے :
کوئی بات کہہ کے ‘
میں جب اپنی سانسوں کو کہرے میں لپٹی ہوئی
شاہراہوں پہ چلتے ہوئے دیکھتا ہوں ‘
تو بے روئے آنسو کا جالا ساچاروں طرف پھیلتا ہے
اور آگے کی چیزیں ہیولوں کی مانند بنتی بگڑتی ہیں
تب لوگ کہتے ہیں
”یہ رت تو زمستاں کے کھلنے کی ہے “
اور میں سوچتا ہوں
”زمستاں کہاں ہے
دھواں بنتی سانسوں میں !
آنسو کے جالے میں !
یاان ہیولوں کے بننے بگڑنے میں یا ...“
احمد ندیم قاسمی کے فنون کے صفحات پر بارش اور سردیوں کے تجربے سے گذرتا ہوا امجد اسلام امجداجمال اور اختصار کی دنیا سے آگے نکل آیا ہے- بزرگوارم قاسمی صاحب کے فن کدے میں کئی طرح کے ”ٹام ‘ڈک اور ہیری“ موجود ہیں ‘ فنون کی بارگاہ کے بندگان نیاز ‘ ان میں مستقل عشاق بھی ہیں اور کہنی مار کر گذر جانے والے بھی ‘ دوسروں کی بساط لپیٹنے والے بھی اور اپنی دکان چمکانے والے بھی ‘ اس چرخ نیلی فام کے کئی ستارے مہ ومہر سے زیادہ چمکے اور کئی شہاب ثاقب ہوئے لیکن اہل فنون کاایک عجیب رشتہ شاید تحقیق نگاروں کے لئے باعث دلچسپی ہے ‘ لفظی اور معنوی سطح پر ان میں سے بہت سوں کے شعری تجربے آپس میں گڈ مڈہوگئے ہیں - وہ سب ایک دوسرے سے متاثر ہیں علامت اور انتخاب حرف میں‘ تراکیب اور بحور کے صوتی آہنگ میں ‘ خیال کی تفصیل کے پھیلاﺅ میں ایک عجب سطح کی خاندانی مانوسیت اپنے چالیس برس پورے کر رہی ہے --- شاید مجھے بھی اس طرح کا تجربہ نہ ہوتا لیکن امجد سے میرا بالمشافہ تعارف 1990کے لگ بھگ شہر گجرات کے ایک زنانہ کالج کی کسی تقریب میں ہوا تھا ‘جہاں طالبات کی پر زور فرمائش پر پہلے اس نے محبت کی نظم سنائی اور پھر امجد پرویز کی آواز میں گایا ہوا گیت ’جو بھی کچھ ہے محبت کاپھیلاﺅ ہے‘ دوہرایا ‘آخری نظم ’تو چل اے موسم گریہ تھی ‘ وہ کہہ رہا تھا:
تو چل اے موسم گریہ ‘ پھر اب کی بار بھی ہم ہی
تری انگلی پکڑتے ہیں تجھے گھر لے کے چلتے ہیں
وہاں ہر چیز ویسی ہے کوئی منظر نہیں بدلا
ترا کمرہ بھی ویسے ہی پڑا ہے جس طرح تو نے
اسے دیکھا تھا‘ چھوڑا تھا
ترے بستر کے پہلو میں رکھی اس میز پر اب بھی
دھرا ہے مگ وہ کافی کا
نظم اپنی جزئیات نگاری اور باضابطہ تفاصیل کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی‘ میں نے اپنی دوست سے کہا مجھے مصطفی زیدی کی نظم یاد آرہی ہے
میز چپ چاپ ‘ گھڑی بند‘ کتابیں خاموش
اپنے کمرے کی اداسی پہ ترس آتا ہے
 

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig