


زمستاں مری روح میں موجزن ہے
ڈاکٹر شاہین مفتی
۔1۔
زمستاں میری زندگی کے بہت سے تجربوں کا نقطہءارتکا ز ہے- وجود اور لاوجود کے
مابین ٹھہرے ہوئے کئی سرد موسم اور کئی سرد تعلق اپنی کھردری یادوں سے دل کو زخمی
کرتے رہتے ہیں- کبھی لگتا ہے میں سیم اور تھور کی بنجر زمینوں پر کھڑی ہوں اور سفید
‘ بھربھری نمکین آڑھی ترچھی لکیروں کی ٹھنڈک پیروں کی ایڑیوں سے چپک گئی ہے - کبھی
پہاڑی علاقوں کی ترائیوں میں ٹھٹھرے ہوئے سیلن زدہ گھروں کی لجلجی چمنیوں سے ملگجے
آنسوﺅں جیسا اٹھتا دھواں یاد آتا ہے جو فضا کے دوش پر اڑنے کی بجائے مکان کی ڈھلواں
چھت پر ہی رینگتا رہتا ہے ‘ کبھی ریسٹ ہاﺅسوں کے آتش دان میں تڑختی لکڑیوں کی
اُکساہٹ دھیان پڑتی ہے جو راکھ کے ڈھیر کو ذرا سا اچھال کر اچانک خاموش ہوجاتی ہے
‘کبھی چیٹر اور دیودار کے ویوہیکل درختوں کی اکھڑی ہوئی چھال ہاتھوں میں نگندے ڈال
دیتی ہے‘ کبھی نیم تاریک گلیوں میں سردیوں کی سرسر اہٹ ایک مجہول قسم کی کھانسی کا
راگ الاپتی ہے ‘ کبھی دریا کنارے بے آواز چلتی ہوئی خشک اور گیلی ریت کے قدم دامنِ
خیال کھینچتے ہیں ‘ کبھی سردیوں کی نامعتبر بارش ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر اپنے
مدقوق نقوش چھوڑ کر شہر کی بھیڑ میں گم ہوجاتی ہے ‘ کبھی شہر کی دو رویہ سڑکوں پر
جلنے بجھنے والی مدھم روشنیاں کہرے میں ڈوب ڈوب کر ابھرتی ہیں‘ کبھی بڑی بڑی
عمارتوں سے امنڈتی ہوئی لال او رپیلی دھند تاریک گلیوں میں کھو جاتی ہے ‘ کبھی
کھڑکیوں سے سر ما کی چاند نی کا اداس چہرہ دکھائی دیتا ہے‘ کبھی سر دیوں کی اداس
صبحوں میں بے جواز گھومنے والے دیوانے یاد آتے ہیں ‘ کبھی پھانسی گھاٹ سے اپنے
محبوب کی لاش کو اپنے کندھوں پر گھسیٹ کر لانے والا عاشق دھیان پڑتا ہے اور کبھی
لگتا ہے سردی کی ایک لہر ریڑھ کی ہڈی سے سنسناتی ہوئی دماغ کی بھول بھلیوں میں
بھٹکنے لگی ہے- شاید میں اپنے اس تلازمے کو پورے دن کے وقفے کے دوران کئی صفحوں پر
پھیلا سکتی ہوں اور یہ بیان زمستانی راتوں کی طرح بہت طویل‘ بہت کٹھور اور بہت
سنگدل ہوسکتا ہے لیکن میں یہاں قارئین کی عافیت کے لئے امجد کی اس نظم کی طرف لوٹتی
ہوں جو میرااس سے پہلا تعارف ہے .
ہم زمستاں کے مسافر ہیں ہمہ تن برف ہیں
منجمد قطرے کی صورت بادلوں کا ظرف ہیں
جو لبوں پر ہی ٹھٹھر کر رہ گئے وہ حرف ہیں
ہم ہوا کا صرف ہیں
یہ نظم ۱۹۷۱کی لکھی ہوئی ہے اور امجد کی عین جوانی کی نظم ہے- اس کی یخ بستگی میں
کیٹس اور شیلے کا رومان چھپا بیٹھا ہے -
انگریزی شاعروں کے ہاں برانیکائٹیس اور نمونیے کی وارداتیں صرف ایک طبی مرض نہیں‘
یہ فکر وخیال کا وہ انقباض بھی ہے جو ہوائے خوش خصال اور شہر ملال کے مابین سد
سکندری کی روایت تازہ کرتا ہے- اس نظم سے ذرا پہلے امجد نے لکھا تھا :
جی میں ہے آج کی شب اس کے لئے جاگ کے کاٹی جائے
وہ جو آنکھوں سے پرے
اجنبی دیس کی گمنام ہواﺅں میں کہیں بیٹھی ہے
کیا محبت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ میں
اس کے چہرے کو خدوخال میں لاکر دیکھوں
یقینا اس نے ایسا نہیں کیا ‘ آنسوؤں کی دھندمیں رگ جاں سے قریب لوگوں کو کوئی پہچان
بھی کہاں سکتا ہے ‘ تمثیل تجرید میں ڈھلتی ہے اور ریزہ ریزہ ہوکر بھری کائنات میں
پھیل جاتی ہے- اپنے آپ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے دیکھنے کا مزہ بھی کچھ اور ہے ‘ سردیوں
کی برستی ہوئی دھند کے اس واہمے جیسا جو گھر سے متصل بالکنی اور تنے ہوئے برقی تار
سے جڑا ہے جس پر نیم سیاہ موسم میں ایک چھوٹی سی ست رنگی چڑیا بیٹھی ہے جس کے پر
برفانی ہوا کی سفاکی کے باوجود خفیف سی لرزش کے بعد شانت ہوجاتے ہیں‘ دور کہیں پن
چکی کی آواز گونجتی ہے او ر دل نشست درد بدلنے کے باعث گہرا اضطرار محسوس کرتا ہے :
پھر وہی آنسوؤں کی بارش ہے
پھر وہی دل کی خشک سالی ہے
اسی ایک لمحے کو امجد کی فصاحت بیانی نے طوق توہم میں جکڑا ہوا ہے‘ چشم بے خواب کے
لئے یہی سامان بہت ہے ‘ کسی رات کے پچھلے پہر وہ یہی زمستانی موسم اوڑھ کر اپنے گھر
سے نکلا تھا ‘ شانوں پر کسی آنکھ کے پر اسرار آنسوؤں کاقرض تھا ‘ پاﺅں سفر سے اٹے
تھے اور ہاتھوں میں ساحل کی گیلی خنک ریت تھی
اے غم یار ٹھہر آج کی شب
لگ چکی تیری سیاہی دل پر
آچکی جو تھی تباہی دل پر

