logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

امجد اسلام امجد کی شاعری
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم
۔6۔

ہلاکِ نالہءشبنم ذرا نظر تو اٹھا
نمود کرتے ہیں عالم میں گل رُخاں کیا کیا
٭
کون سی منزل پہ لے آئی اکائی ذات کی
ٹوٹ جاﺅں گا اگر میں نے کسی سے بات کی
٭
قدم اٹھا ہے تو پاﺅں تلے زمیں ہی نہیں
سفر کا رنج ہمیں خواہشِ سفر سے ہوا
٭
حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے
٭
میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں تری آس تیرے گمان میں
صبا کہہ گئی مرے کان میں مرے ساتھ آ اُسے بھول جا
٭
چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے
٭
اپنی ہی شکل ہے جس سمت نظر پڑتی ہے
شہرِ آئینہ میں آنکھوں کو سزا کس نے دی
٭
دشت میں ہواؤں کی بے رخی نے مارا ہے
شہر میں زمانے کی پوچھ گچھ سے وحشت تھی
امجد اسلام امجد کی شاعری کا سفر اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ جاری ہے- اس کے دل میں چراغ جلتے رہتے ہیں اور اس کی محبت کے نغموں سے اک جہاں معمور نظر آتا ہے- اس کی بیاض ہر دم تازہ اور اس کا قلم ہمہ وقت سخن طرازی پر آمادہ رہتا ہے- دعا ہے کہ ہمارے ادبی منظر نامے پر جگمگاتا ہوا یہ نام اور بھی تابندہ ہو اور تا دیر روشن رہے۔

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig