logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

امجد اسلام امجد کی شاعری
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم
۔3۔

امجد کی کل شاعری محبت کی ان نظموں کے گرد ہی نہیں گھومتی- نہ ہی امجد کنجِ بہاراں میں ہر دم بیٹھا شعر کہتا رہتا ہے اور نہ ہی ملال کے ساحلوں کی نرم آزردہ نثراد ہوا کے دامن میں سر نیوڑا ہے بیٹھا سخن ورانہ مشقت پر معمور ہے- اس کی تو وقت اور زمانے کی تمام زندہ حقیقتوں سے آشنائی ہے- مشاہدے ‘ مطالعے اور تجربے نے اس کی فکر کو پختگی اور بالغ نظری سے ہمکنار کیا ہے- ان تجربات و معاملات سے گزرتے ہوئےامجد نے بعض بہت اچھی نظمیں کہی ہیں- فکری توانائی سے پُرمگر اپنی کیفیت میں رواں‘ سبک اور مہکتی ہوئی نظمیں:
جب آنکھیں بجھ کر راکھ ہوئیں
جب دل کا جوالا سرد ہوا
جب شام و سحر کے صحرا میں
خوابوں کے ستارے ریت ہوئے
جب عمررواں کے میداں میں
سب زندہ جذبے کھیت ہوئے
اس وقت مجھے محسوس ہوا
جس عشق میں ساری عمر کٹی شاید وہ نظر کا دھوکا تھا
(جب آنکھیں بجھ کر راکھ ہوئیں)
اسی ذیل میں امجد کی بعض نظمیں کمال کی ہیں- انہی میں اس کی ایک نظم گلیڈی ایٹرز بھی ہے- یہ بے مثال اور زندہ نظم مختصر مگر بہت پراثر اور بامعنی ہے- یہ آئیہ وار وارد ہوتی ہے اور ذرا کی ذرا میں ہمیں حیران و آزردہ کر دیتی ہے-
ہم اپنے قتل ہونے کا تماشا دیکھتے ہیں
تو اپنی تیز ہوتی سانس کے کانوں میں کہتے ہیں
”ابھی جو ریت پر لاشہ گرا تھا
میں نہیں تھا..... !
میں تو زندہ ہوں....یہاں
دیکھو‘
مری آنکھیں ‘ مرا چہرا‘ مرے بازو
سبھی کچھ توسلامت ہے“!!
ابھی کل ہی کا قصہ ہے
سرِ مقتل ہمارے دست و بازو کٹ رہے تھے
پر ہم اپنے گھروں میں مطمئن بیٹھے ہوئے
ٹی وی کے قومی نشریاتی رابطے پر
سارے منظر دیکھتے تھے
اور کہتے تھے
”نہیں یہ ہم نہیں ہیں“

ہمارے آستیں پر خون کے دھبے ابھی تازہ ہیں
سوکھے بھی نہیں!
ایسی ہی دو اور نظمیں بھی توجہ طلب ہیں- ایک حقیقت پسندانہ فکر ان نظموں میں جاری و ساری ہے اور ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبو رکر دیتی ہے:
کسی ہاتھ نے کسی لوح پر نہیں لکھا
وہی ایک حرف ِ گماں ہیں ہم!
خطِ گمشدہ میں لکھی گئی
کوئی اجنبی سی زباں ہیں ہم
کسی اور خطہ ء درد پر جو گزر گیا
اسی وقت کی تگ و تاز کا
کوئی بے نشاں سا نشاں ہیں ہم!
کبھی اپنے ہونے کے واہمے سے نکل کے دنیا کو دیکھئے
تو نہ کھل سکے کہ کہاں ہیں ہم!
(تو جو ہو گیا اُسے مان لے)

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig