logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

امجد اسلام امجد کی شاعری
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم
۔2۔

ایک تخلیق کار کے ہر دم سوچتے ذہن اور واقعات و احوال کی تہداریوں میں جھانکتی نگاہ سے کوئی رمز بھی پوشیدہ نہیں ہوتا اور کوئی ہونی انہونی بے معنی اور بے قیمت نہیں ہوتی- چھوٹے سے چھوٹا دکھ اور ادنیٰ سے ادنیٰ خوشی بھی اس کے لیے تخلیقی سرمایہ بن جاتی ہے- امجد کی ایک نظم ”چشمِ ِبے خواب کو سامان بہت“ میں ایسی ہی درد کی ایک کسک اور ملال کی ایک لہر نمایاں شعری معنویت میں ڈھل گئی ہے:
چشمِ بے خواب کو سامان بہت
رات بھر شہر کی گلیوں میں ہوا
ہاتھ میں سنگ لیے
خوف سے زرد مکانوں کے دھڑکتے دل پر
دستکیں دیتی چلی جاتی ہے
روشنی بند کواڑوں سے نکلتے ہوئے گھبراتی ہے
ہر طرف چیخ سی لہراتی ہے
ہیں مرے دل کے لیے درد کے عنوان بہت
چشم بے خواب کو سامان بہت
امجد کی ان دو نظموں کو دیکھ کر اس کی فکر‘ ذہنی اُپج‘ لفظیات‘ تشکیلیت اور طرزِ اظہار بہت روشن طریقے سے سامنے آجاتے ہیں اور امجد کی نظموں کی عمومی فضا اور اس کے لہجے سے بھرپور تعارف ہو جاتا ہے- امجد کی نظموں کا کافی کچھ حصہ احساسِ محبت کی شاعری کے حوالے سے مقبول و معروف ہے اور رومانوی اور عشق آثار جذبوں پر مشتمل ہے- انسانی نفسیات تو یوں بھی تمام تر جذبات کی رونمائی اور کارفرمائی پر ہی مبنی ہے- غم‘ خوشی‘ محبت‘ نفرت‘ تعلقِ خاطر‘ بے تابی یا اطمینان غرض ہر جگہ انسانی احساس اور رویے کی رَو جاری و ساری نظر آتی ہے- اسی لیے عشق زندگی کی زندہ حقیقتوں میں سے ایک ہے اور باہمی ربط و تعلق سے پیدا ہونے والی محبت بھی ایک بڑی‘ اہم اور زندہ حقیقت کے روپ میں ہماری زندگی کا حصہ ہے- زمانوںکے مابین کتنے ہی اور کیسے ہی فکری تغیرات کیوں نہ آتے رہیں ہر زمانے میں ایک نسل ہمیشہ شخصی اور ذاتی جذبوں کے حصار میں ہوتی ہے اور اسی لیے رومانی شاعری یا ادب جو محبت یا عشق کی سدا بہار خوشبو سے آباد ہواور مہک رہاہو ہمیشہ قبولِ عامحاصل کرتا ہے- امجد کی نظمیں ایک لڑکی‘ اے شام گواہی دے‘ محبت کی ایک نظم‘ کوئی زنجیر ہو‘ مجھے تم سے محبت ہے‘ جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلاﺅ ہے‘ ان جھیل سی گہری آنکھوں میں‘ ذرا سی بات اور بھید بھری چپ‘ بلا کی خوبصورت نظمیں ہیں اور پھر انہی پر کیف‘ نشاط آگیں مگر دلگیر فضاﺅں میں امجد کی نظمیں تو چل اے موسم گریہ‘ بارش کی آواز‘ یہ لمحے اس کے نام کریں اور ہوا برد ہمیں اپنے دامن میں سمیٹ لینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں- اس کی بہت معروف نظموں کے کچھ حصے دیکھئے:
اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
(محبت کی ایک نظم)
محبت کی طبیعت میں یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے
اسے تائیدِ تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
(مجھے تم سے محبت ہے)
بوسوں کی حلاوت سے جب ہونٹ سلگتے ہوں
سانسوں کی تمازت سے جب چاند پگھلتے ہوں
اور ہاتھ کی دستک پر
جب بندِ قبا اس کے کھلنے کو مچلتے ہوں
عشق اور ہوس کے بیچ کچھ فرق نہیں رہتا
(کچھ فرق اگر ہے بھی اس وقت نہیں رہتا)
جب جسم کریں باتیں دریا بھی نہیں بہتا
میں جھوٹ نہیں کہتا
اے شام گواہی دے

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig