


امجد اسلام امجد کی شاعری
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم
۔1۔
ہمارے عہد کے شعر و ادب کا منظر نامہ چند ادبی چہروں کی آب و تاب اور کچھ اُجلے
ناموں کی معنی آفریں روشنی سے منور اور تاباں نظر آتا ہے- اردو زبان و ادب کی کم
وبیش پانچ سو برس کی تہذیب کے سفر میں ایک تسلسل ہے جس کی کبھی تیز اور کبھی مدھم
کیفیت نے زمانے اور وقت کا ایسا ساتھ دیا کہ آج کا شعر اور آج کا ادب اپنے تازہ طرز
احساس و اظہار میں زندگی‘ وقت اور زمانے کی زندہ حقیقتوں کو سچائی اور دانائی کے
ساتھ رقم کر رہا ہے-
ایسے ہی ناموں میں ایک نام امجد اسلام امجد کا بھی ہے جس نے ایک ڈرامہ نگار‘ شاعر‘
ناقد‘ کالم نگار‘ سیاح اور مترجم کی حیثیت سے اپنے ہونے کا ہمیشہ احساس دلایا اور
ہمارے زمانے میں شعر و ادب کے وقار اور اعتبار میں اضافہ کیا - اس کے اولین
مجموعہءکلام” برزخ“ (1974) سے لے کر ”بارش کی آواز“ (1997) تک 3 1کتابوں میں اس کی
فکر‘ اس کے جذبات و احساسات اور اس کے تہذیبی رویے کااحوال پھیلا ہوا ہے- پھر حال
ہی میں اس کی تمام نظمیں یکجا ہو کر” میرے بھی ہیں کچھ خواب“ 2001) ) کی شکل میں
اور کل غزلیں بھی ایک صحیفہء غزل کی صورت میں ”ہم اس کے ہیں“2001) ) کے عنوان سے
شائع ہو چکی ہیں اور قبولیت کے درجے کو پہنچ چکی ہیں-
ان تمام ادبی کاوشوں میں خواہ وہ امجد کی خوبصورت شاعری ہو‘ اس کے پُراحساس کالم
ہوں‘ اس کے دلکش ٹی وی ڈرامے ہوں یا اس کے دلچسپ سفرنامے ایک بات جو ابھرتی ہے وہ
امجد کی ذات میں چھپا وہ تخلیقی جوہر ہے جس نے اس کے کام اور اس کی فکر کو اعتبار
بخشاہے- مشاہدے اور تجربے کی روشنی سے اس نے اپنے سخن کے در و بام کو اجالا ہے-
عصری آگہی اور سماجی شعور نے اس کے موضوعات کو جلا بخشی ہے اور یوں امجد کی شاعری
محبت‘ دیانت‘ شائستگی‘ دردمندی اور خیرِ کثیر کے جذبوں سے مالا مال ہے- تخلیقی شعور
اور بیش حسی نے اس کی فکر کی تربیت اس طرح کی ہے کہ وہ خوشبو کو دیکھ سکتا ہے‘ ہوا
سے مکالمہ کرسکتاہے‘ خواب کو تعبیر بنا سکتا ہے اور یوں ایک حساس تخلیق کار کے طور
پر امجد گزرنے اور آنے والے زمانوں کے درمیاں اپنے ہونے سے ایک خوبصورت رابطہ پیدا
کرتا چلا جاتا ہے-
امجد کی شاعری کا بڑا حصہ نظموں پر مشتمل ہے- اس کی نظمیں اپنے موضوعات‘ اپنے پھیلاﺅ
اور اپنی اثر انگیزی کے حوالے سے اپنی الگ پہچان بنا چکی ہیں- اس کی نظموں میں ایک
اپنی فضا ہے جو خاص استعاروں اور اپنے اسلوب کی ندرت سے ان کی دلپذیری اور اثر
انگیزی میں اضافہ کرتی ہے- اس کی رواں دواں اور پر تاثیر نظموں میں ایک خاص بے
ساختہ پن گہری معنویت کے ساتھ رونمائی کرتا ہے- اس حوالے سے اس کی نظم ”کوئی چاند
چہرا کشا ہوا “پیش کی جا سکتی ہے-
کوئی چاند چہرہ کشا ہوا
وہ جو دھند تھی وہ بکھر گئی
وہ جو حبس تھا وہ ہَوا ہُوا
کوئی چاند چہرہ کشا ہوا
تو سمٹ گئی
وہ جو تیرگی تھی چہار سُو
وہ جو برف ٹھہری تھی روبرو
وہ جوبے دلی تھی صدف صدف
وہ جو خاک اڑتی تھی ہر طرف
مگر اک نگاہ سے جل اٹھے
جو چراغ جاں تھے بجھے بجھے
مگر اک سخن سے مہک اٹھے
مرے گلستاں‘ مرے آئینے
کسی خوش نظر کے حصار میں
کسی خوش قدم کے جوار میں
کوئی چاند چہرا کشا ہوا
مرا سارا باغ ہر ا ہوا

