


امجد اسلام امجد
مشاہیر کی نظر میں
ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا
امجد طالب علمی کے زمانے میں بہت اچھا کھلاڑی تھا لیکن اس زمانے میں بھی ادب کے
مطالعے میں منہمک رہتا تھا- حافظہ بہت اچھا تھا اور ہزاروں اشعار ازبر تھے جنھیں
اکثر برموقع اور کبھی کبھی بے موقع بڑی ساختگی سے سناتا تھا ___اور آج وہی امجد
پوری اُردو دنیا میں میں جانا جاتا ہے- شاعری اور ڈرامے میں اس نے اتنی شہرت حاصل
کی ہے جو اس کے حلیفوں اور حریفوں سب کے لیے یکساں محلِ رشک و حیرت ہے- وہ مطالعے
سے آج بھی نہیں تھکا- شاعر اور ڈرامہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ اس نے تنقید و تحقیق
میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے- اس کے کالم بھی بڑی دلچسپی سے پڑھے جاتے
ہیں- بیرون ِ ملک منعقد ہونے والے مشاعروں اور ادبی تقریبوں میں اس کی بڑی مانگ ہے-
اسے متعدد انٹر نیشنل اور نیشنل ایوارڈ مل چکے ہیں لیکن اس کی بڑائی یہ ہے کہ ان
اعزازات نے اسے مغرور نہیں کیا-
کفیل آزر
جناب امجد اسلام امجد صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ اپنی اور اپنے معاشرے کی
زندہ شاعری کر رہے ہیں- ان کے یہ اشعار یقینا ان کے اپنے ہیں اور ان کی انفرادیت کا
کھل کر اعلان کر رہے ہیں- ان کے اس مطلع میں کتنی معصومیت ہے:
ہم ہی آغازِ محبت میں تھے انجان بہت
ورنہ نکلے تھے ترے وصل کے عنوان بہت
اور پھر کسی طرح کی شکایت کئے بغیر اس درد ناک زندگی‘ کرب اور حالات سے مایوسی کا
اظہار اسی غزل کے اس شعر میں:
اے غمِ عشق! مری آنکھ کو پتھر کر دے
ہیں مرے سر پہ ترے اور بھی احسان بہت
اور مقطع میں اعتماد اور خوش فہمی کو کس طرح نبھایا ہے:
اس کو بھی لگ ہی گئی شہرِ محبت کی وفا
وہ بھی امجد ہے کئی دن سے پریشان بہت
کتنا سائنٹفک شعر ہے:
کس لیے بدحواس ہیں تارے
کوئی سورج نکل رہا ہے کیا
محاورے کا استعمال کتنے نئے زاویے سے کیا ہے- اس غزل کے مقطع میں :
کاٹ کر پھینک دے انہیں امجد
ایسے ہاتھوں کو مل رہا ہے کیا
اس شعر میں صرف ”ایسے“ کے استعمال نے اسے ہزار معنی پہنا دیئے ہیں- کتنے زاویوں سے
پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے اس شعر کو-
میدانِ حشر میں جس طرح سب کو اپنی اپنی پڑی ہو گی- نفسا نفسی کا عالم ہو گا -وہاں
نہ کوئی کسی کے ماں باپ ہوں گے نہ اولاد- یہ تو جب ہو گا تب ہو گا- امجد صاحب کو
دنیا میں ہی اس سچائی سے جوجھنا پڑ رہا ہے:
کون سنتا ہے کسی کی بپتا
سب کے ماتھے پہ یہی قصہ ہے
اور عشق کے پاگل پن کی یہ تصویر:
کوئی ڈرتا ہے بھری محفل میں
کوئی تنہائی میں ہنس پڑتا ہے
اور پھر وہی کرب‘ اذیت:
وہ خدا ہے تو زمیں پر آئے
حشر کا دن تو یہاں برپا ہے
سانس روکے ہوئے بیٹھو امجد
وقت دشمن کی طرح چلتا ہے
ظہیر کاشمیری
امجد اسلام امجد کا فنی کینوس رنگا رنگ گل بوٹوں سے آراستہ ہے- آدھا
آدمی ماضی میں ڈوب چکا ہے اور آدھا آدمی حال کے افق پر طلوع ہو رہا ہے- امجد اسلام
امجد نے ماضی کے قیاس اور حال کے تجرباتی آدمی کے ٹکڑوں کو یکجا کرکے اسے ایک مکمل
تشخص دینے کی کوشش کی ہے- ان کے کلام میں پرانی عقیدتیں اور نئی دریافتیں اپنی پوری
دھج سے جلوہ گر ہیں او ریوں انہوں نے جنریشن گیپ کے فکری کناروں پر ایک منقش اور
خوبصورت پل تعمیر کیا ہے-
وہ پرانے لسانی اور جمالیاتی نظام سے آگاہ ہیں- اس جمالیاتی نظام کی ارتقا پذیری پر
ایمان رکھتے ہیں- یہی قصہ ہے کہ ان کی علامتیں ‘امیجری اور شعری محاسن زندہ اور
اثرانگیز ہیں اور اپنے تہذیبی اور معاشرتی پس منظر سے پیدا ہوئے ہیں-
امجد اسلام امجد کی شاعری عصری تناقضات میں وحدت تلاش کرنے کی شاعری ہے اور ان کی
تخلیقات میں اعلیٰ فن کے تمام متصارفات اور امکانات موجود ہیں-

