logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

امجد اسلام امجد
مشاہیر کی نظر میں

دلدار پرویز بھٹی
کتاب میں کہیں بھی ایسا نہیں کہ امریکہ کینیڈا ہندوستان میں ہر ایک نے امجد امجد پکارا ہو- سب نے اسے اس صدی کا بڑا شاعر مانا ہو اور اسے قائداعظم کے پاکستان کا امین کہا ہو- امجد بہت بڑا نسان ہے مگر اتنا سادہ کہ میری نظر میں وہ ایک ایسی دیہاتی عورت ہے جس کو پتہ نہیں کہ وہ حسین ہے- یہی اس کی سادگی ہے -اللہ کرے ہمارا یہ بللّہ کوَ لیاں کرتا رہے اور رب سوہنا اس کی سب سوَلیاں کرتا رہے- اس کے حاسدوں کے لیے یہی موت ہے-
امجد کروڑوں لوگوں کا محبوب ہے جو پڑھ نہیں سکتے صرف سن سکتے ہیں‘ دیکھ سکتے ہیں اور ٹی وی کی کتاب کے ذریعے اس کے دوست ہیں‘ عاشق ہیں- اس کے حاسدوں کو خبر ہو کہ میں اس کا دوست ہوں‘ عاشق ہوں کہ چار پڑھے لکھے ساتھیوں میں ایک اَن پڑھ جاں نثار کا ہونا بہت ضروری ہے-

ڈاکٹر شوکت محمود
مجھے ”فشار“ اور ”دن“ نے خاص طور پر متاثر کیا ہے کیوں کہ ان دونوں ڈراموں نے ہمارے دو بڑے اہم مسائل کی نشاندہی کی- ”دن“ کے اختتام کے بعد میں نے روزنامہ ”نیشن“ میں”دن“ پر ایک مضمون لکھا اور اس مضمون کو پڑھ کر بی۔بی۔ سی  والوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور میری رائے بی بی سی کے لیے ریکارڈ کی-
امجد اچھے شاعر اور اچھے ڈرامہ نویس ہی نہیں‘ اچھے دوست اور اچھے انسان بھی ہیں- عام طور پر لکھنے والے بڑی سڑیل طبیعت یا تکبر کا شکار ہوتے ہیں لیکن میری نظر میں ایک تکون ایسی ہے جو اپنی شگفتگی ء طبیعت کے باعث لاثانی ہے- یہ تکون اصغر ندیم سید‘ عطا الحق قاسمی اور امجد اسلام امجد کی ہے- تینوں ٹی وی کے لیے لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں-
امجد کی طبیعت کا درویش پن (غلام حیدر وائیں جیسا نہیں) ان کی شخصیت کا اہم حصہ ہے- میری دعا ہے اللہ ان کے زور قلم میں اور اضافہ کرے اور اس سے وہ  قوم کو دوبارہ پٹریوں پر لانے میں کامیاب ہوں- میرے لیے یہ فخر کا باعث ہے کہ میں اس دور میں ہوں جس میں ا مجد جیسے مایہ ناز لکھاری بھی ہیں- بڑی شخصیت کا (ہم عصر) ہونا بھی فخر کی بات ہے-

محمد کبیر خان
امجد کو ایک شاعر‘ ایک ڈرامہ نگار ‘ایک دانشور‘ ایک مجلسی انسان اور ایک درویشانہ بے تکلفی کے حامل شخص کی حیثیت سے میں نے قریب سے دیکھاہے لیکن میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ ”شہردر شہر“ کی صورت میں ایک ایسا سفر نامہ لکھ مارے گا جو اس صنف ِادب میں تہلکہ مچا دے گا- عام زندگی میں چٹکلوں‘ بے پناہ ادبی چاشنی کے حامل فقروں اور برمحل شعروں سے مزین گفتگو سے محفل کو زعفران زار بنانے والے امجد اسلام امجد دیارِ غیر میں جہاں قاری کو معلوماتی اور تاثراتی احوالِ سفر سناتا ہے وہاں چلتے چلتے یک لخت اپنے باطن میں ڈبکی لگاتا ہے اور قاری بھی بے سوچے سمجھے ایسا ہی کرتا ہے- اپنے سفر نامے میں امجد نے چیزوں کو حقیقی انداز میں پیش کیا ہے لیکن کہیں بھی اسے اٹلس نہیں ہونے دیا- مختلف ممالک اور مختلف شہروں کی سیاحت کے دوران امجد نے جو محسوس کیا من و عن لکھ دیا‘ بے ساختگی کے ساتھ‘ سادگی کے ساتھ مختلف معاشروں کے محاسن و عواقب بھی گنوائے‘ ان سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی دیا اور جہاں مناسب ہوا بیزار بھی کیا- لیکن اس بیزاری میں بھی بے قراری پائی جاتی ہے کہ دیکھئے اب کیا ہونے کو ہے-

عطاءالحق قاسمی
امجد کے سلسلے میں بتانے کی ایک بات یہ ہے کہ وہ دوستوں کے ساتھ گپ شب کے علاوہ کھانے پینے کا بھی خاصا رسیا ہے‘ چنانچہ وہ جانتا ہے کہ اچھے کباب کہاں سے ملتے ہیں‘ سموسے کس دکان کے اچھے ہیں‘ گرم گرم جلیبیاں کہاں سے ملتی ہیں‘ اور گلبرگ کے کس ریستوران میں اچھا چینی کھانا دستیاب ہوتا ہے اور اس انجمن میں وہ اکیلا نہیں‘ بلکہ اس کے کچھ رازداں اور بھی ہیں‘ جن میں مظفر بخاری‘ شمیم اور رضا مہدی وغیرہ شامل ہیں‘ یہ کھابہ گیر پارٹی ہے اور امجد کی خورد ونوش کی یہ سرگرمیاں اس کی ادبی سرگرمیوں کے ”پیر الل“ چلتی ہیں- امجد کے دوستوں کا ذکر چھڑا ہے‘ تو یہ بھی سن لیں کہ اس حلقہء احباب میں پری چہرہ بھی شامل ہیں‘ مگر جس طرح اس کی ذات سے آج تک کسی دوست کو نقصان نہیں پہنچا‘ اسی طرح ان پری چہرہ لوگوں کو بھی اس بے ضرر شخص سے کبھی شکایت پیدا نہیں ہوئی- ان کا طریق کار یہ ہے کہ وہ لطیفے اس سے سنتے ہیں اور حال دل غالباً کسی اور سے! حال دل سنانے کے متعلق امجد کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ سٹوپڈچیز دنیا میں اور کوئی نہیں‘ جبکہ لڑکیاں ہیں کہ یہ رومانی ڈائیلاگ سننے کے لیے بزرگوارم سدھیر تک کی فلم دیکھنے چلی جاتی ہیں- ویسے آپس کی بات ہے‘ میں نے ایک روز امجد کو ٹیلیفون پر عشق میں ڈوبے ہوئے ڈائیلاگ بولتے ہوئے خود سنا تھا اور آپس کی بات یہ بھی ہے کہ دوسری طرف ہماری بھابی تھی‘ جبکہ ایک ستم ظریف کا کہنا ہے کہ بیوی سے عشقیہ گفتگو کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی ایسی جگہ خارش کرے جہاں خارش نہ ہو رہی ہو!

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig