


امجد اسلام امجد
مشاہیر کی نظر میں
فیض احمد فیض
اس مجموعے میں تعداد اور حجم کے اعتبارسے نظموں پر غزلیات کا پلّہ بھاری ہے لیکن
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے باوجود امجد اسلام امجد صاحب کی طبع شاید نظم ہی کے
لیے موزوں ہے- غزل تو ایک طرح سے کشیدہ کاری کا کام ہے جس میں ایک دیئے ہوئے ڈیزائن
کی چوکھٹ میں شاعر کے جذبہ و خیال کی بُنت سے ہزار رنگ کے پھول پتیاں اور نقش و
نگار ابھرتے ہیں لیکن اس بنیادی ڈیزائن میں ایجاد و اختراع کی گنجائش بہت کم ہوتی
ہے اور امجد صاحب چونکہ طبعاً جدت پسند واقع ہوئے ہیں اس لیے انہیں نظم کی صورت میں
آہنگ و اظہار کے نئے پیرائے بروئے کار لانے میں زیادہ کامیابی ہوتی ہے‘ چنانچہ بھٹک
رہے ہیں کنج بدن میں تتلی بن کر ہات-
یا چُن لو اپنے اپنے خواب‘ دو آنے بھئی دو آنے-
یا قریہ قریہ پوچھ رہی ہے خلقت ایک سوال!
اور ایسی دیگر نظمیں بہت خلوص اور سہولت سے لکھی گئی ہیں اور مجموعے کے قارئین کو
حل مِن مزید کے انتظار میں رکھیں گی-
اشفاق احمد
امجد اسلام امجد کے اختیار کردہ دوسرے اصناف ِسخن پر بڑی آسانی کے ساتھ بہت کچھ کہا
جا سکتا ہے‘ لیکن اس کی شاعری پر کچھ کہنے کے لیے ایک لمبے وقفے اور طویل مکالمے کی
ضرورت ہے- ہمارے اس عہد کے شاعروں میں امجد دوسرا شاعر ہے جو ”کلی شے“ سے اجتناب
کرکے چلا ہے- اگر کلی محور پر نہیں تو اپنے ساتھی شاعروں کے مقابلے میں کبھی کبھی
اور کہیں کہیں کلی شے کو اس نے صرف قاری کی آسانی اور اس کی دلجمعی کے لیے برقرار
رکھا ہے‘ خوش دلی سے نہیں میرا اندازہ ہے کہ اسی اصالت نے اسے ایک توجہ طلب شاعر
بنا دیا ہے- آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ بڑے بڑے اعلیٰ درجے کے شاعر اور رموز فن کے
آشنا سخن ور اپنی اعلیٰ قسم کی زباندانی اور لہجے کے دھوم دھڑکے کے باوصف جب اپنے
افکار کو ”کلی شے“ کے حوالے کر دیتے ہیں تو اپنی معصوم اور باکرہ شاعری کو پورے طور
پر بداخلاقی کی تحویل میں دے دیتے ہیں- ”کلی شے“ صرف خلاقی ہی کا دشمن نہیں بلکہ
امید کی راہ کا بھاری پتھر بھی بن جاتا ہے اوراس سنگ ِ راہ سے کبھی چشمہ نہیں
پھوٹتا!
آپ نے اکثر اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کا ”کلی شے“ سنا ہو گا اور اس پر تالی بھی
بجائی ہو گی‘ مگر امجد پوچھتا ہے؟
گزرتے لمحو‘ مجھے بتاﺅ کہ زندگی کا اصول کیا ہے
تمام چیزیں اگر حقیقت میں ایک ہی ہیں
تو پھول کیوں ہیں ببول کیا ہے؟
.............
تمام ہاتھوں میں آئینے ہیں تو کون کس سے چھپا ہوا ہے
اگر سمندر کی حد ہے ساحل تو کون آنکھوں میں پھسلتا ہے
کسے خبر ہے بدلتی رت نے پرانے پتوں سے کیا کہا ہے
یہ کون بادل سے جا کے پوچھے کہ اتنے موسم کہاں رہا ہے
..............
اگر زمیں پر تمہارے میرے قدم نہ پڑے تو کون ہوتا ہے
یہ ایسا جادو ہے جو حسابوں سے حل نہ ہو گا
ہوا جو تحریر لکھ کے جائے گی‘ اس پر کوئی عمل نہ ہو گا
ذرا تمنا کی شکل دیکھو تمہارے آنے کی منتظر ہے
..............
ڈاکٹر سلیم اختر
خود نقاد ہونے کے باوجود بھی میں نہ صرف اس بات کا قائل ہوں بلکہ برملا اعتراف بھی
کرتا ہوں کہ پیشہ ور نقاد کے برعکس کبھی کبھار عید کے دن پان کھانے کی مانند‘ تنقید
لکھنے والا بالعموم اچھی بات کر جاتا ہے کہ اور کچھ نہ ہو تحریر میں تازگی تو ہوتی
ہے‘ (مثال : ساقی فاروقی کا ڈاکٹر وزیر آغا پر مقالہ) اسی طرح امجد نے ہر شاعر کے
بارے میں جو تعارفی نوٹ قلمبند کیا ہے اس میں بھی تازہ نگاہی کا احساس ہوتا ہے‘
حالانکہ وہ اردو کا استاد ہے اور ان تمام شعراءپر کلاس روم نوٹس کو کتاب میں
استعمال کر سکتا تھا‘ بوجھ ہلکا ہو جاتا اور کتاب نصابی ضروریات میں بھی ممد ثابت
ہوتی- مگر اس نے بعض دیگر پروفیسر ناقدین کے برعکس تنقید اور نوٹس کو الگ الگ رکھا
اور اسی لیے یہ مختصر شذرات بعض اوقات اہم تنقیدی نکات کے حامل ثابت ہوتے ہیں- امجد
افسانہ نگار کی مانند بعض اوقات چونکا دینے والے فقرہ سے تنقیدی تعارف کا آغاز کرتا
ہے‘ ایسا فقرہ جو امجد کی حسِ مزاح کا غماز ہونے کے ساتھ ساتھ تنقیدی حس کا بھی
مظہر ہوتا ہے‘ چند مثالیں پیش ہیں:
”میر کا پرابلم یہ ہے کہ اس کی دستار ہمیشہ خطرہ میں رہی ہے“
”سودا ہماری کلاسیکی شاعری کا پرابلم چائلڈ ہے-“
”نظیر اکبر آبادی ایک اعتبار سے اردو شاعری کا محمد تغلق ہے-“

