


امجد اسلام امجد
منصورہ احمد
۔2۔
اور سب سے بڑا سوال یہ بھی ہے کہ :۔
تو پھر اس مشت خاکی کی
بساط جستجو کیا ہے؟
زمیں زادوں کی قسمت میں ا گر مٹی ہی لکھی تھی
تو پھر یہ ہاؤ ہو کیا ہے؟
ان سوالوں کو کبھی جواب نہ مل پائیں‘ تب بھی ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی کہ ان کی
ابتداﺅں میں ہی ان کی انتہائیں موجود ہیں-
امجد کی شاعری کا دوسرا بڑا قصر محبت کے مٹی اور گارے سے تعمیر ہوتا ہے- وہ محبت جو
اس نے کرنا چاہی اور کی یا اور وہ بھی جو اس سے چھن گئی اپنے گلابی اور سرمئی رنگوں
کے ساتھ اس کی شعری کائنات میں جابجا موجود ہے‘ کبھی کبھی وہ حقیقت کی سرحدوں سے
باہر نکل کر فینٹسی اور یوٹوپیا کے زون میں داخل ہو جاتی ہے- لیکن اس فرار کے بغیر
شاید محبت کا بھاگتا اور سرکتا ہیولہ گرفت میں آ ہی نہیں پاتا بقول امجد:۔
اگر کبھی میری یاد آئے
گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
میں اوس قطروں کے آئینوں میں تمہیں ملوں گا
امجد کے نزدیک جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلاؤ ہے-خواہ تلاطم ہو یا ٹھہراؤ ہر کیفیت
محبت کے عکس سے ہی بامعنی ہوتی ہے- امجد نے اسے بیک وقت روپ کا داؤ اور پیار کا گھاؤ کہا ہے- اپنے اور اس کے ابد کا کنارہ قرار دیا ہے- اس کی محبت کی شاعری میں کئی
مقامات بہت شبنمی اور لطیف محسوس ہوتے ہیں:۔
کل سرگفتگوتیری ان بے صدا
وحشی ہرنی سی آنکھوں میں بھی ایک پل کے لیے
جو ستارا سا چمکا تھا وہ اصل میں
کہکشاں میں پرویا ہوا لفظ تھا
میراصدیوں کا کھویا ہوا لفظ تھا
لفظوں کے ریشم میں الجھے قوس قزح سے وعدے ہیں کچھ
جن کی لاکھوں گرہیں تیری ایک نظر سے کھل جاتی ہیں
جیون ایک ترازو جس کے اک پلڑے میں
تیرے وصل کاخواب رکھیں تو
دنیا بھر کی ساری خوشیاں تل جاتی ہیں
امجد کی کائنات محبت میں ”فطرت“ باقاعدہ ایک کردار کے طور پر ظہور کرتی ہے- ستارے‘
چاند‘ پھول‘ شبنم‘ سرگوشیاں کرتی ہوائیں‘ ہلکورے لیتی لہریں‘ ڈوبتی ابھرتی شامیںا س
کی دنیا کا پس منظر بھی ہیں اور پیش منظر بھی- ان سے وہ رنگ بھی بھرتا ہے اور رنگ
بجھا بھی سکتا ہے- ہمیں اس کی دنیا کی رنگا رنگی بہت انسپائر کرتی ہے اور ہماری
خواہش ہے کہ یہ رنگ اپنی بوقلمونی سے نئے جہان آباد کرتے رہیں ___ آمین-

