


امجد اسلام امجد
منصورہ احمد
۔1۔
امجد اسلام امجد حیرتوں کی تنگنائے میں مسلسل محو سفر ہے‘ گردو پیش ایک
فلکس کی طرح
اپنے منظر نامے بدلتا ہے‘ وہ کبھی ایک منظر پر حیران ہو کر سوال اٹھاتا ہے کبھی
دوسرے پر- کہیں چھاﺅں ہے‘ کہیں دھوپ ہے اور اس دھوپ چھاﺅں کے کھیل کا سب سے بڑا
کھلاڑی‘ سب سے بڑا کردار ”وقت“ امجد کی شاعری کا بھی سب سے بڑا کردار ہے- اس کے
ہاتھوں میں ہی اس کے شب و روز کی باگ ڈور ہے- یہ کبھی اسے ناسٹلجیا دیتا ہے اور
کبھی احساس زیاں- وہ لمحہ ء موجود کی سرد خاکستر سے شش جہات کا وہ کھیل یاد کرتا
رہتا ہے جب روح میں نغمگی تھی اور چہار سو سرخوشی کا غبار پھیلا رہتا تھا‘ ایک
جھٹپٹا جو ماحول کو نیم خوابیدگی دیتا تھا:
سر رہگذر ہے پڑا ہوا وہی خواب جاں
جسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے واسطے
کئی لاکھ تاروں کی سیڑھیوں سے اتر کے آتی تھی کہکشاں
مگر یہ جو ہر گماں کا یقین اور ہر یقین کو گماں میں ڈھالنے والا ہے یہ ہر احساس کو
بے وجود کرتا رہتا ہے اور خواب جاں کو سنبھالتے سنبھالتے راستے یوںا لجھتے ہیں کہ
منزلیں بے نشاں ہو جاتی ہیں‘ امجد کا شعری سفر انہی منزلوں تک کا سفر ہے- منزلوں تک
جاتے ہوئے راستوں کی روداد ہے- وہ کہتا ہے:
مرے ہم سفر تجھے کیا خبر
یہ جو وقت ہے کسی دھوپ چھاﺅں کے کھیل سا
اسے دیکھتے‘ اسے جھیلتے
میری آنکھ گرد سے اٹ گئی
مرے خواب ریت میں کھو گئے
لیکن اس گرد آلود سفر نے اسے بہت سے سوال بھی دیئے ہیں‘ صرف ایسے سوال نہیں جو ذات
کے محبس میں قید ہوں بلکہ ایسے سوال جو ذات سے کائنات تک سفر کرتے ہیں‘ اس ریت اور
گرد کے منظر نامے میں کھڑا وہ خود سے اور ساتھیوں سے پوچھتا ہے کہ وہ لوگ جو آگے
گذر گئے ہیں ان کے خواب اور تعبیریں کیا تھیں‘ اسے پانی پر گم ہو جانے والی تحریروں
کا تجسس ہے- اور ان تعمیروں کا ملال جو سیل زماں کا رزق ہوگئیں‘ یہ’ سیل زماں‘ امجد
کی شاعری کا سب سے محکم استعارہ ہے- اس سیل زماں میں وہ ساری نرمی و سفاکی در آتی
ہے جو زندگی کے تار و پود سے وابستہ ہے- وہ اہل حشم بھی ہیں جو لاشوں پر مسند رکھ
کر بیٹھتے ہیں اور وہ علم و خیر کے جو یا بھی جو حسن تلاش کرتے کرتے خود ہی اسیر
راہ ہو جاتے ہیں- وہ پوچھتا ہے:
اک دشت کی جلتی مٹی پر
کیا بہتے لہو نے سوچا تھا؟
پردیس کے قاتل رستوں میں
کیا مرتے ہوﺅں نے سوچا تھا؟
لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ امجد اس گرد میں گم نہیں ہو کر رہ گیا- اس نے اس سے
باہر نکلنے کی راہیں بھی نکالی ہیں- ایک دروازہ کھلا رکھا ہے جو اس ”اثبات“ کے آنگن
میں نکلتا ہے کہ ہم آپ اپنا آئندہ ہیں او رملبے کو ہٹا کر بھی خواب چنے جاسکتے ہیں-
پھر یہ سوچ بھی کتنی مثبت ہے کہ موسموں کو روکنے کی تمنا کرنے کی بجائے پل دو پل کی
مہلت کو غنیمت سمجھنا ہے اور انہیں بھرپور انداز میں بسر کرنا ہے- یہی وہ رویہ ہے
جو رات کے بطن سے جنم لینے والی سحر کا استقبال کرسکتا ہے‘ اور موت کی اٹل حقیقت کے
باوصف زندگی کا اثبات کرتا ہے-
امجد کی شاعری صرف ظاہر کی آنکھ سے نظر آنے والی زندگی کا ہی احاطہ نہیں کرتی‘
مابعد الطبیعات اور ورائے نظر حیات پر بھی غور کرتی ہے- جب سے انسانی ذہن تخلیق ہوا‘
تجسس نے جنم لیا‘ اس اضطراب نے اہل فکر کو بے چین رکھا کہ سبزہ و گل کہاں سے آئے
ہیں- امجد کے فکری نظام بلکہ اسی کے لفظوں میں اس کے گماں آباد ہستی میں ’ابر یقین‘
نہ ہونے کے باوجود چپ ایسے نئے سوالوں کا آغاز ہے- اس بیان میں غیر محسوس کو محسوس
اور غیر متکلم کو متکلم بنانے کی تکنیک نے اس کی جستجو میں عجیب دلاویز شدت پیدا کی
ہے-
سمندر کی تہوں میں جو سفینے ان گنت صدیوں سے ڈوبے ہیں
وہ کس کو یاد کرتے ہیں
ہوا اجڑے مکانوںکے دریچوں سے گذرتی ہے
تو کیا محسوس کرتی ہے

