


امجد اسلام امجد سے ایک تصوراتی مکالمہ
عرفان مرتضیٰ.......... لاس اینجلس
باتوں باتوں میں شام ڈھل گئی اور سورج بھی اپنے بستر میں منھ چھپا کر جا سویا- سورج کے سوتے ہی ستاروں نے انگڑایاں لینا شروع کر دیں- کمرے کی کھڑکی سے آسمان کی جانب دیکھ کر امجد صاحب گویا ہوئے :۔
کہہ رہی ہے چمک ستاروں کی
درد کی رات ڈھلنے والی ہے
ہم نے کہا ”اللہ آپ کی زبان مبارک کرے“- پھر ہم نے کہا ”ایک بات بتائیں آپ کو امجد صاحب.... پچھلے سال کے مشاعرے میں جو مزا آیا تھا وہ اس کے بعد کسی مشاعرے میں نہیں آیا“- کہنے لگے‘ ”ٹھیک کہتے ہو‘ لیکن:۔
جانے وہ دن تھے کون سے اور کون سا تھا وقت!
گڈ مڈ سے اب تو ہونے لگے ماہ و سال بھی
ابھی باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ہمارے موبائل فون پر امجد صاحب کے دوست کی کال آگئی کہ
جنہوں نے ان سے ملنے ہمارے گھر آنا تھا- وہ ہمارے یہاں آنے کے لئے راستہ پوچھ رہے
تھے- ہم نے پوچھا کہ آپ کہاں سے آ رہے ہیں تو پتہ چلا کہ وہ صاحب وسیم کے گھر کے
نزدیک ہی رہتے ہیں- ہم نے انہیں بتایا کہ ہم ان کے گھر کے نزدیک ہی ہیں‘ تو انہوں
نے ہمیں اپنے گھر بلا لیا- ہم دونوں وسیم سے اجازت لے کر ان صاحب کے گھر کی جانب چل
دیئے- ابھی ہم لوگ آگے بڑھے ہی تھے کہ ایک صاحب نے دور سے ہی امجد صاحب کو آواز دی-
امجد صاحب نے پلٹ کر دیکھا اور رک گئے- وہ صاحب تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے ہماری
جانب آئے اور امجد صاحب سے بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملایا- ہمیں لگا کہ جیسے امجد صاحب
ان صاحب کو پہچاننے کی کوشش کر رہے ہوں لیکن کامیابی نہ ہوسکی ہو- بہرحال‘ ان صاحب
نے امجد صاحب کی یہ مشکل خود ہی آسان کر دی- بولے‘ ’امجد صاحب! ہماری ملاقات پچھلے
برس کے مشاعرے میں ہوئی تھی“- امجد صاحب نے ان کا شکریہ ادا کیا تو وہ بولے‘ ”آئیے
ہمارے گھر چائے ہی پیتے جائیے-“ لیکن امجد صاحب نے یہ کہہ کر معذرت کرنا چاہی کہ :۔
تم سے ملے بھی ہم تو جدائی کے موڑ پر
کشتی ہوئی نصیب تو دریا نہیں رہا
لیکن وہ صاحب جب زبردستی کرنے لگے تو امجد صاحب نے ان سے کہا ”جناب‘ آپ کا بہت بہت
شکریہ کیونکہ :۔
وقت پر زور نہیں‘ عمر چلی جاتی ہے
سینکڑوں کام پڑے ہیں ابھی کرنے والے
ہم لوگ پھر وہاں سے آگے بڑھے تو وہاں ہمیں ایک الیکٹرونکس کی دکان نظر آگئی- امجد
صاحب کو کچھ کیمرے وغیرہ دیکھنا تھے- دکان پر کئی اقسام کے کیمرے تھے- امجد صاحب کو
ایک کیمرہ پسند آگیا- ہم نے بہت زبردستی کی کہ ہم وہ کیمرہ انہیں خرید دیں‘ لیکن وہ
راضی نہ ہوئے- دکاندار نے کیمرے کی لائف ٹائم وارنٹی‘ بھی بیچنا چاہی تو امجد صاحب
سوچنے لگے- تو دکاندار نے کہا‘ کہ ”جناب! اس میں سوچنے کی کونسی بات؟“ تو امجد صاحب
بولے ”یہ جو ’لائف ٹائم وارنٹی‘ ہے‘ یہ کیمرے کی لائف کی بات ہے کہ کیمرے کے مالک
کی“ پھر بولے :۔
سودا ہے عمر بھر کا‘ کوئی کھیل تو نہیں
اے چشم یار‘ مجھ کو ذرا سوچنے تو دے
کیمرہ خرید کر ہم پھر ان صاحب کے گھر کی جانب چل دیئے- نجانے کیسا راستہ سمجھایا
تھا انہوں نے کہ گھر مل ہی نہیں رہا تھا- خیر جب ان صاحب کا گھر ڈھونڈتے ڈھونڈتے
کافی دیر ہوگئی تو ہم نے کہا ”امجد صاحب لگتا ہے کہ آج آپ کی ان صاحب سے ملاقات نہ
ہوگی-کب تک ڈھونڈیں گے انہیں؟“ بولے :۔
کہکشاں سے پرے‘ آسماں سے پرے‘ رہگزار زمان و مکاں سے پرے
مجھ کو ہر حال میں ڈھونڈنا تھا اسے‘ یہ زمیں کا سفر تو بہانہ ہوا
ہم نے کہا ”دیکھیں کافی اندھیرا ہوچکا ہے اور یہ علاقہ بھی زیادہ صحیح نہیں ہے‘
گلیاں بھی دیکھیں کتنی اندھیری ہیں‘ اگر کوئی مسئلہ ہوگیا تو....“ فوراً بولے :۔
وفا کی راہ مقتل سے گزرتی ہے تو بسم اللہ
نہیں پسپائی سے واقف تمہارے چاہنے والے
ہم نے کہا‘ ”چاہنے والے آپ ہوں گے‘ ہم تو ان صاحب کو جانتے تک نہیں ہیں- تو بولے :۔
راستے عشق کے آسان نہیں ہیں امجد
ہاں مگر جاں کے زیاں تک کوئی جاسکتا ہے

