


امجد اسلام امجد سے ایک تصوراتی مکالمہ
عرفان مرتضیٰ.......... لاس اینجلس
آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ کر بولے :۔
کچھ دن تو میرا عکس رہا آئینے پہ نقش
پھر یوں ہوا کہ خود مرا چہرا بدل گیا
پھر کھڑکی کے باہر نظر ڈالتے ہوئے بولے :۔
پلٹ کر آنے لگے شام کے پرندے بھی
ہمارا صبح کا بھولا مگر نہیں آیا
وہ اپنے ایک دوست کا تذکرہ کر رہے تھے کہ جنہوں نے ان کے ایئر پورٹ پر پہنچتے ہی ملنے آنا کا وعدہ تو کیا تھا لیکن اب تک آئے نہیں تھے- ہم نے کہا ”امجد صاحب! آپ کے صبح کے بھولے کا فون آیا تھا- انہوں نے کہا ہے کہ وہ ذرا دیر سے پہنچیں گے- تو بس اب آتے ہی ہوں گے“- وہ پھر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے غسل خانہ کے بیسن کے سامنے جا کر کھڑے ہوئے بولے :۔
کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر نہیں رہی
جاتے ہی ایک شخص کے کیا کیا بدل گیا!!
ہم نے پوچھا ”کون کہاں چلا گیا‘ کس کی بات کر رہے ہیں؟“ بولے ” نہیں کچھ نہیں‘ بس ایسے ہی ذہن میں ایک بات آگئی تھی“- منھ ہاتھ دھو کر امجد اسلام امجد چائے پینے کے لئے ڈرائنگ روم میں آگئے- کمرے کی کھڑکی سے ہمارے گھر کا پچھلا حصہ نظر آتا تھا کہ جہاں شام ہو جانے کے باوجود ابھی تک کچھ مزدور کام کر رہے تھے- ہم نے آنگن کے درمیان کچھ تعمیر کروانا تھا‘ بس اسی کا کام جاری تھا- کھڑکی کے باہر دیکھا تو امجد صاحب گویا ہوئے :۔
کہنے کو ایک صحن میں دیوار ہی بنی
گھر کی فضا‘ مکان کا نقشہ بدل گیا
ہم نے کہا ”آپ نے بجا فرمایا کہ ذرا سی تبدیلی سے مکان کا نقشہ بدل گیا ہے‘ لیکن گھر کی فضا تو اللہ کا کرم ہے ابھی تک اچھی ہی ہے“- محسن صاحب ابھی تک سو رہے تھے اور ان کے صبح تک اٹھنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے- ہم امجد صاحب کو لے کر اپنے ایک پرانے دوست سے ملنے کے لئے چلے گئے- اسی محلے میں ہمارا پرانا گھر بھی تھا‘ جسے دیکھے کافی عرصہ ہوچکا تھا اور سنا تھا کہ جو لوگ ہمارے بعد اس گھر میں منتقل ہوئے تھے انہوں نے بھی بقول امجد صاحب کے مکان کا نقشہ ہی بدل دیا تھا- ہم نے امجد صاحب سے کہا ”چلئے! اب اتنی دور آئے ہیں تو لگے ہاتھوں ہم اپنا پرانا گھر ہی دیکھ لیں“- تو اپنے شعر میں ہمیں مخاطب کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں بولے :۔
وہاں پہ اب بھی ستارے طواف کرتے ہیں
وہ جس مکان میں‘ جس بھی گلی میں رہتا تھا
ہم نے ہنستے ہوئے کہا‘ ”ستاروں کا تو نہیں معلوم‘ ہاں! یہ ضرور ہے کہ ’تارا‘ نام کی لڑکی ہمارے گھر کا طواف ضرور کیا کرتی تھی- یہ سن کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی- وہ ہمارے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ہماری پرانی گلی میں آگئے- لیکن ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ نہ صرف اس مکان کا بلکہ ساری گلی کا نقشہ بدل چکا تھا- حتیٰ کہ ہمیں اپنا پرانا گھر تک پہچاننے میں مشکل ہوئی- امجد صاحب نے جب یہ دیکھا تو خاموش نہ رہ سکے-بولے :۔
اپنی گلی میں اپنا ہی گھر ڈھونڈتے ہیں لوگ
امجد یہ کون شہر کا نقشہ بدل گیا
اپنے گھر کا حال یا برا حال جو بھی تھا‘ دیکھ کر ہم واپس اپنے دوست وسیم کے گھر کی جانب چل دیئے- وسیم ہمیں اپنی گلی کے نکڑ پر ہی مل گئے- ہمیں دیکھا تو ہم سے گلے مل کر امجد صاحب سے ہاتھ ملایا اور ہم سے پوچھنے لگے ”ارے عرفان! آج یہاں کیسے آنا ہوگیا؟“ اس سے پہلے کہ ہم کچھ کہتے‘ امجد صاحب فوراً بولے :۔
تیری گلی میں آئے تھے بس تجھ کو دیکھنے
اس کے سوا ہمارا کوئی مدعا نہ تھا
پھر وسیم ہمیں اپنے گھر کے اندر لے گئے- بیٹھتے ہی پرانے قصے نکل آئے- پرانی باتوں اور پرانے دوستوں کا تذکرہ چھڑا تو وسیم نے ہمیں ایک پرانے اور مشترکہ دوست کی باتیں بتائیں- لہجہ تھوڑا طنزیہ اور شکایت بھرا تھا- یہ باتیں سن کر امجد صاحب نے سمجھانے کے انداز میں وسیم سے کہاسے نہیں گزری‘ آج کل آپ کچھ لکھ لکھا کیوں نہیں رہے“ ؟ بولے :۔
بھٹکے ہوئے پھرتے ہیں کئی لفظ جو دل میں
دنیا نے دیا وقت تو لکھیں گے کسی دن

