logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

دِل اور دُنیا سے باتیں: امجد اسلام امجد
پروفیسر فتح محمد ملک
7

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ دلدوز سسکیاں وہ ہیں جو دنیائے اسلام کے طول و عرض سے بلند ہو رہی ہیں- امجد اسلام امجد اپنے بیشتر معاصرین کے برعکس زیردست مسلمان قوموں کے حق میں آواز بلند کرتے وقت یہ کبھی نہیں سوچتے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں سے وفا کا حق ادا کرتے ہوئے انسان دوستی کے مسلک سے روگردانی کر رہے ہیں- امجد کی مظلوم اور محکوم مسلمانوں سے اٹوٹ وابستگی ان کی گہری انسان دوستی ہی کا ثبوت ہے- چنانچہ وہ بلقان کے مسلمانوں کا ساتھ دیتے وقت سیکولر طرز فکر و احساس اپنانے کی بجائے ملتِ بیضا کی تاریخ کے حوالے سے مسلمان لہو کی ارزانی پر یوں دستِ دُعا بلند کرتے ہیں:
تاریخ کی گلیوں میں مسلم کا لہو ارزاں
اتنا نہ ہوا ہوگا
دشوار سہی لیکن بے برگ و شجر رستہ
اتنا نہ ہوا ہو گا
اے اشکِ سرِ مژگاں‘ آنکھوں سے کنارا کر
آئینہ نما ہو جا

اے شمعِ شبِ تیرہ‘ وہ صبح دوبارا کر
سینوں کی ضیا ہو جا
اک حرفِ دُعا ہو جا
دُھندلایا ہوا چہرا اس ملتِ بیضا کا
اتنا نہ ہوا ہو گا
تاریخ کی گلیوں میں مسلم کا لہو ارزاں
اتنا نہ ہوا ہوگا!!
تاریخ کی گلیوں میں خونِ مسلم کی ارزانی پر پہنچتا ہوں تو یک بیک بیسویں صدی کے ربع اول میں لڑی جانے والی بلقان کی جنگوں کے سیاق و سباق میں لکھی گئی اقبال کی نظمیں ذہن پر یلغار کر دیتی ہیں........ ہو گیا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہو‘ حضور نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں‘ جھلکتی ہے تیری اُمت کی آبرو اس میں‘ طرابلس کےشہیدوں کا ہے لہو اس میں..... ... اور یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے امجد اسلام امجد نے اقبال کے خلاف ردعمل کا نقشہ پیش کرنے والے سن چھتیس کے مغرب زدگان کے بدیسی طرزِ احساس کو رد کر کے اپنا رشتہ اقبال کی شعری اور فکری روایت سے جوڑ لیا ہو اور اقبال ہی کی مانند مغربی سامراج کے ساتھ ساتھ خود مسلمان حکمرانوں کو بھی ملتِ اسلامیہ کے مصائب کا سرچشمہ بتانے لگے ہوں:
ہے کام مساواتِ محمد ﷺ کو مٹانا
کرتا ہے عرب اور‘ عجم اور طرح سے
بیسویں صدی کے دوران مساواتِ محمد کے انقلابی تصورات کو کبھی تو اشتراکیت کی مساواتِ شکم کی آئیڈیالوجی کی تشہیر سے دھندلایا گیا اور کبھی انسانی آزادی کے سرمایہ دارانہ استحصالی تصورات سے گدلایا گیا اور اب اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی گلوبلائزیشن کے شور و غوغا میں فراموش کرنے کا چلن اپنا لیا گیا ہے- امجد اسلام امجد ملتِ بیضا کی آزادی اور استحکام کے لیے مساواتِ محمد کی آئیڈیالوجی کو عملی زندگی کے ٹھوس قالب میں جلوہ گر دیکھنے کے آرزو مند ہیں- ہر چند ”وصالِ یار فقط آرزو کی بات نہیں“ تاہم جن دلوں میں مایوسی گھر کر چکی ہو اُ ن میں نئی آرزوﺅں کو جنم دینا بھی بہت بڑا کام ہے- امجد کے معاصرین میں اس انقلابی آرزو مندی کا پرتو کہیں نظر نہیں آتا- اس لیے ہماری شاعری اور ہماری زندگی کو امجد سے بہت سی توقعات ہیں- دیکھا چاہیے‘ امجد ان توقعات میں کیونکر پورا اترتے ہیں؟

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig