


دِل اور دُنیا سے باتیں: امجد اسلام امجد
پروفیسر فتح محمد ملک
6
ہمارے ہاں ہی نہیں بلکہ فلسطین ‘کشمیر اور پوری دنیائے اسلام کا مرکزی سوال یہی ہے-
خطہ در خطہ پھیلی ہوئی پوری دنیائے اسلام میں یہی آتشیں سوال کراں تا کراں گونج رہا
ہے- جسے شاعر نے نظم ”کلنٹن ٹھیک کہتا ہے“ میں یوں تلاش کیا ہے:
کلنٹن ٹھیک کہتا ہے
کلنٹن جو بھی کہتا ہے‘ ہمیشہ ٹھیک کہتا ہے
اگر وہ یہ کہے‘
”صدّام اک جنگلی درندہ ہے‘
قذافی باﺅلا ہے‘
مشرقی یورپ میں جو کچھ ہو رہا ہے
اُس کے ڈانڈے روس کے ٹکروں سے ملتے ہیں
کہ جس کو سوشلسٹوں نے
نئی دنیا کا اک سمبل بنایا تھا
جو اب یہ خواب ٹوٹا ہے
تو اس کی کرچیاں تکلیف تو دیں گی!
فلسطینی مہاجر بستیوں پر ظلم جائز ہے
کہ اسرائیل کرتا ہے
مسلمانوں کی سرکوبی بہت ہی لازمی ٹھہری
کہ فنڈامینٹلسٹوں نے بہت آفت مچائی ہے‘
یہ جتنا بوجھ ہے اس تیسری دنیا کے ملکوں کا
اسے مغرب کے کاندھے مفت میں کیونکر اٹھائیں گے!
سو امریکی سفارت کار کی تعظیم لازم ہے
کہ اس کے مشورے کو جس کسی نے بھی نہ ماناہے
وہ کوئی قوم ہو یا اس کا کوئی سر پھرا لیڈر
اسے بند ابنانا امنِ عالم کا تقاضا ہے“
تیسری دنیا گویا دنیائے اسلام ہی کی ہم مقدر ہے- امجد مسلمانوں کے مسائل پر دلسوزی
کو انسان دوستی کے اپنے تصور سے ہم آہنگ پاتے ہیں- ان کا دل دنیا بھر کی محکوم و
مظلوم قوموں سے ہمدردی سے لبریز ہے- اس کی ایک مثال نظم ” بازی“ میں ملتی ہے- نظم
کا حصہ اول یہ ہے:
کیا عجیب قصہ ہے!
اس زمین کے نقشے پر
جو غریب قومیں ہیں
ان کے پاس جو کچھ ہے
جتنے زور والے ہیں‘ سب انہی کا حصہ ہے
کیا عجیب قصہ ہے!
کیا عجیب قصہ ہے‘
زیر دست قوموں کی
سرحدیں بدل جائیں
دست ِاہلِ حشمت کی جنبشِ قلم سے وہ
اٹلسوں کی صفحوں سے
ایک دم نکل جائیں
آستین قاتل کی پھر بھی صاف رہتی ہے
خون اس کے ہاتھوں پر سربسر چمکتا ہو
زخم کھانے والوں کی
مضمحل زباں اس کو
پھر بھی امنِ عالم کا چیمپئن ہی کہتی ہے
کیا عجیب قصہ ہے!
ظلم کی وکالت میں ان فریب کاروں کی
مختلف زبانیں کیا
ایک ساتھ چلتی ہیں
ریشمی سے لفظوں میں
وحشتیں اگلتی ہیں
آرزؤئیں دنیا کے‘ زیردست لوگوں کی
آنسوؤں میں پلتی ہیں
سسکیوں میں ڈھلتی ہیں

