


دِل اور دُنیا سے باتیں: امجد اسلام امجد
پروفیسر فتح محمد ملک
۔3۔
جو پوروں میں تارے جگاتا ہوا‘ مسکراتاہوا
از ازل تا ابد پھیلتا تھا
(پھیلتا تھا مگر کچھ بتاتا نہ تھا- ہاتھ آتا نہ تھا)
اور چُپ کے وہ سب بے کنارا جزیرے
جو باتوں کے بے نام‘ گہرے سمندر
میں یوں ڈولتے تھے
کہ پورے بدن میں بد ن بولتے تھے
وہ کیا تھے!!!
اس سوال کا کوئی آخری اور حتمی جواب آج تک کسی کو بھی میسر نہ آسکا- جواب کی تلاش
ہنوز جاری ہے- اس مبارک تلاش کا ایک خوبصورت نقش نظم ”ہوا بُرد“ کے درج ذیل بند میں
موجود ہے:
میرے ہم سفر
مرے جسم و جاں کے ہر ایک رشتے سے معتبر‘ مرے ہم سفر
تجھے یاد ہیں! تجھے یاد ہیں!
وہ جو قربتوں کے ُسرور میں
تری آرزو کے حصار میں
مری خواہشوں کے وفور میں
کئی ذائقے تھے گھلے ہوئے
در گلستاں سے بہار تک
وہ جو راستے تھے‘ کھلے ہوئے!
سرِ لوحِ جاں‘
کسی اجنبی سی زبان کے
وہ جو خوشنما سے حروف تھے!
وہ جو سر خوشی کا غبار سا تھا چہار سُو
جہاں ایک دُوجے کے رُوبرو
ہمیں اپنی رُوحوں میں پھیلتی کسی نغمگی کی خبر ملی
کسی روشنی کی نظر ملی‘
ہمیں روشنی کی نظر ملی تو جو ریزہ ریزہ سے عکس تھے
وہ بہم ہوئے ‘ وہ بہم ہوئے تو پتہ چلا
کہ جو آگ سی ہے شرر فشاں مری خاک میں
اُسی آگ کا
کوئی ان بجھا سا نشان ہے‘ تری خاک میں!
اسی خاکداں میں وہ خواب ہے
جسے شکل دینے کے واسطے
یہ جوشش جہات کا کھیل ہے یہ رواں ہوا
اسی روشنی سے ”مکاں“ بنا‘ اسی روشنی سے ”زماں“ ہوا
یہ جو ہر گماں کا یقین ہے!
وہ جو ہر یقین کا گمان تھا!
اسی داستان کا بیان تھا!
یہ جان کر ایک خوشگوار حیرت کا احساس ہوتا ہے کہ امجد اسلام امجد نے من و تو کے
جذباتی پیچ و تاب اور فکری سوز و ساز کی تفہیم و تحسین کو خارجیت اور داخلیت‘ مادیت
اور روحانیت اور رنج و راحت کی روایتی اور رسمی جبریت سے آزاد کر کے ایک لازماں اور
لامکاں سا تناظر فراہم کر دیا ہے- جدید نظم کے سفر میں جذبہ و احساس کا یہ موڑ جدید
شعری روایت کا رشتہ پھر سے وہیں آ جوڑتا ہے جہاں جدیدیت کے آغاز میں کٹ کر رہ گیا
تھا چنانچہ باطنی اور عرفانی علوم کی فراموش کردہ روایت ہمارے فکر و تخیل کو سیراب
کرنے لگتی ہے:۔

