


دِل اور دُنیا سے باتیں: امجد اسلام امجد
پروفیسر فتح محمد ملک
میں ادب کا ایک عام قاری ہوں- مجھے اس حقیقت کا ادراک حاصل ہے کہ سچا شاعر اپنے
قارئین کی امیدوں پر پورا اترنے کی خاطر شاعری ہر گز نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے خواب و
خیال کی صورت گری کرنے اور اپنی تخلیقی شخصیت کی بے چینی سے نجات پانے کی خاطر
تخلیقِ فن کا بارِ امانت اُٹھاتا ہے- اس کے باوجود جب امجد اسلام امجد ہماری شاعری
کے افق پر طلوع ہوئے تو میں نے ان کا خیر مقدم کرتے وقت بالکل غیر شعوری طور پر اُن
کی شاعری سے بہت سی اُمیدیں وابستہ کر لیں- آج سے بائیس برس پہلے جب میں نے پہلی
بار اُن کے فنی کمالات پر قلم اُٹھایا تو یہ اُمیدیں میری ہمسفر تھیں- مجھے امجد کی
شاعری واقعتا ساتویں در پر دستک دیتی ہوئی محسوس ہوئی اور میں نے قارئین ادب کو یہ
مُژدہ سنایا کہ:۔
مزاحمت اور سرفروشی کا جذبہ وہ ”ساتواں در“ ہے جسے کھولنے سے ہوشمندوں نے
ہمیشہ منع کیا ہے مگر امجد اسلام امجد کہ ہوش والوں کی بدحواسی کے نوحہ گر ہیں‘ اس
ساتویں در کو کھولنے سے باز نہیں آئے .... مزاحمت اور سرفروشی کا جذبہ وہ
ساتواں در ہے جس کے کھلنے سے ہم پر خود ہمارے گھر کے دروازے کھلتے ہیں اور ہم اپنی
صدیوں پر پھیلی ہوئی تہذیبی روایت کے عجائبات و طلسمات سے دوچار ہوتے ہیں-
میں امجد کی شاعری میں ان”عجائبات و طلسمات “ کی سیر میں منہمک تھا کہ اچانک امجد
اسلام امجد شاعری سے دور تمثیل نگاری کے میدان میں جا نکلے- ٹیلی ویژن کے ڈراما
سیریل ”وارث“ نے ان کی تخلیقی شخصیت کو اپنی مکمل گرفت میں لے لیا- ”وارث“ سے لے کر
ڈراما سیریل ”انکار“ تک آتے آتے کئی برس گزر گئے- ہر چند اس عرصےمیں وہ تمثیل نگاری
کے ساتھ ساتھ شاعری بھی کرتے رہے مگر میں اُن سے شاکی رہا- اس دوران مجھے برابر یہ
انتظار رہتا کہ امجد ٹیلی ویژن ڈراما نگاری کی گلیمرس فضا کو چھوڑ کرشاعری کے دشت ِوفا
میں اب آئے کہ آئے- اب کہیں آ کر مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور میں نے امجد کی
شاعری سے اپنی جذباتی وابستگی کو ایک طرف رکھ کر اُن کی شاعری کا جائزہ لیا تو کھلا
کہ میں بلاوجہ شاعری اور تمثیل نگاری کو ایک دوسری کی سوت سمجھ بیٹھا تھا- یہ میری
بھول تھی- جب ان کی شاعری کے اب تک منظرِ عام پر آنے والے دس مجموعوں کا مطالعہ کیا
تو معلوم ہوا کہ امجد کی شاعری اور امجد کی تمثیل نگاری تو ایک دوسرے کی زوجین ہیں-
اگر شاعری نے تمثیل نگاری کو فکر و تخیل کی دولت سے مالا مال کر دیا ہے تو تمثیل
نگاری نے شاعری کو مکالمہ نگاری‘ بیان واقعہ اور ڈرامائیت کے ہُنر سکھلا دیئے ہیں-
یہ ہُنرمندی اور تازہ کاری امجد کی نظموں میں بدرجہ ء اتم جلوہ گر ہے- اب جان و
جہان و جاناں کی واردات نے باتوں کا پیرایہء بیان اختیار کر لیا ہے-
گذشتہ بیس برس کے دوران امجد نے محبت کے اعجاز اور جسم کے اسرار پر علمی سے زیادہ
تخلیقی انداز میں غور و فکر کیا ہے- چنانچہ جس قلمرو میں علم کا حاصل تشکیک کے سوا
کچھ نہیں اُسی کائنات میں ذاتی تجربات سے برآمد ہونے والی سچائیاں یقین کی سوغات
فراہم کرتی نظر آتی ہیں- نظم ”فرق“ میں وہ اپنے محبوب کے ساتھ باتوں ہی باتوں میں
روح و بدن کے گہرے اسرار پر یوں گفتگو کرتے ہیں:
کہا میں نے ‘ جاناں!
یہ سب کچھ بجا ہے
ہمارے تعلق کے ہر راستے میں
بدن سنگِ منزل کی صُورت کھڑا ہے!
کہ دونوں طرف سے بدن بولتا ہے!
بظاہر زمان و مکاں کے سفر میں
بدن ابتدا ہے‘ بدن انتہا ہے
مگر اس کے ہوتے ..... سبھی کچھ کے ہوتے
کہیں بیچ میں وہ جو اک فاصلہ ہے!
وہ کیا ہے!
مری جان‘ دیکھو
یہ موہوم سا فاصلہ ہی حقیقت میں
ساری کہانی کا اصلی سِرا ہے
(بدن تو فقط لوح کا حاشیہ ہے)
بدن کی حقیقت‘ محبت کے قصے کا صرف ایک حصہ ہے
اور اُس سے آگے
محبت میں جو کچھ ہے اس کو سمجھنا
بدن کے تصور سے ہی ماوراءہے

