logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

کچھ اپنے بارے میں
 

 میں لوگوں کو حوصلہ دینے کی کوشش کرتا ہوں کہ برائی ناقابل شکست نہیں ہے- اس کو دوسرے انداز میں بھی دیکھا جاسکتا ہے- وہ نظریہ بھی درست ہے لیکن ذاتی طور پر مجھے یہی نظریہ پسند ہے-میرا اولین مقصد معاشرے کے مسائل کو اجاگر کرکے ان کے حل کی راہ ہموار کرنا رہاہے-
اچھی شاعری کو پڑھنے والے جو لوگ ہیں وہ ممکن ہے پاکستان میں صرف کوئی دو تین لاکھ ہوں اور ڈرامہ ظاہر ہے سات آٹھ کروڑ افراد دیکھتے ہیں- اب ان دونوں کا فیصلہ آپ تعداد کے اعتبار سے نہیں کرسکتے- اس بات کو اسی طرح سے بیان کرسکتا ہوں جیسے مولانا الطاف حسین حالی کا شعر میں اکثر دہرایا کرتا ہوں-
اہل معنی کو ہے لازم سخن آرائی بھی
بزم میں اہل نظر بھی ہیں تماشائی بھی
تو اہل نظر اور تماشائی دونوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے- صرف تماشائیوں کے بہاؤ میں بہہ جانے سے بھی آدمی برباد ہو جاتا ہے اور ان سے الگ تھلگ ہو کر صرف چیدہ چیدہ لوگوں کے لئے لکھنے سے بھی مقصد پورا نہیں ہوتا لہٰذا ان کے درمیان میں رہنا چاہیے- میں نے ہمیشہ یہی کرنے کی کوشش کی ہے-

ازدواجی زندگی
میری شادی 23 مارچ 1975 ءکو ہوئی- میری اہلیہ میرے چچا کی بیٹی ہیں‘ اپنا پہلا مجموعہ کلام ”برزخ“ کا انتساب میں نے ان ہی کے نام کیا تھا- میری بڑی بیٹی انور مسعود کی بہو ہے‘ وہ اسلام آباد میں رہتی ہے- اس کا شوہر چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ ہے- چھوٹی بیٹی نے سائیکالوجی میں ایم ایس سی کیا ہے‘ دو سال پہلے اس کی شادی ہوئی ہے- وہ لاہور میں ہے- میرا بیٹا گورنمنٹ کالج میں بی اے میں پڑھتا ہے‘ وہ شاعری بھی کرتا ہے- میری شادی بالکل ویسی ہی ہے جس کو آپ کہتے ہیں ناں  ھیپیلی میریڈ- باقی تو زندگی کے مسائل چلتے ہی رہتے ہیں -عمومی طور پر میں گھر والوں کی طرف سے‘ بیوی بچوں کی طرف سے مکمل طور پرمطمئن ہوں- تعاون بھی ملتا ہے- جتنا سکون آج کل کے زمانے میں مل سکتا ہے وہ بھی ملتا ہے- اس کے لئے میں اللہ تعالیٰ کا بڑا شکر گزار ہوں-
ہم بچپن سے ایک ہی گھر میں رہتے تھے‘ اس لیے ایک دوسرے کے مزاج کو بھی سمجھتے تھے‘ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری مصروفیت اور ہماہمیی کے دور میں انہوں نے بڑے صبر سے کام لیا اور خود کو ایڈجسٹ کیا‘ میں نے بھی اپنی طرف سے کوشش کی کہ ذمےدارانہ زندگی گزاری جائے‘ فیملی کو بھی وقت دیا جائے‘ چھوٹی موٹی باتوں کو چھوڑ کر‘ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری ازدواجی زندگی بہت اچھی گزری-

پسندیدہ شعراء
اساتذہ میں میر‘ سودا‘ مصحفی‘ درد‘ نظیر‘ آتش‘ غالب‘ شاد‘ یگانہ اور اقبال-
ماضی قریب کے لوگوں میں سے راشد‘ فیض‘ مجید امجد‘ ساحر‘ اطہر نفیس‘ ناصر اور ہم عصروں میں قاسمی صاحب‘ منیر‘ فراز‘ شہزاد‘ عالی‘ اختر الایمان‘ اختر حسین جعفری‘ پروین شاکر‘ خالد احمد‘ نجیب احمد‘ عدیم ہاشمی‘ افتخار عارف‘ حفیظ تائب‘ عالمتاب تشنہ‘ ضمیر جعفری‘ انور مسعود‘ عطاءالحق قاسمی اور بہت سے

پسندیدہ ادیب
سینئرز میں قرة العین حیدر‘ احمد ندیم قاسمی‘ عصمت چغتائی‘ اشفاق احمد‘ ہاجرہ مسرور‘بانو قدسیہ‘ جوگندر پال‘ رام لال‘ واجدہ تبسم اور بعد کی نسل میں محمد منشا یاد‘ مظہر الاسلام‘ مستنصر حسین تارڑ‘ نجم الحسن رضوی‘ مسعود مفتی اور یونس جاوید کی کہانیاں شوق سے پڑھتا ہوں- گزشتہ دہائی میں طارق محمود‘ اسد محمدخان‘ محمد سعید شیخ‘ نیلوفر اقبال‘ عطیہ سید‘ امر جلیل‘ امراﺅ طارق‘ نور الہدیٰ شاہ اور نیلم احمد بشیر نے اچھی کہانیاں لکھی ہیں- انتظار حسین‘ انور سجاد‘ عبداللہ حسین‘ سریندر پرکاش‘ الطاف فاطمہ‘ غیاث احمد گدی‘ بلراج مینرا اور رشید امجد وغیرہ کی جو کہانیاں علامت اور اسلوب کی زد سے بچ جاتی ہیںا چھی لگتی ہیں-

پسندیدہ ڈرامہ نگار
سینئرز میں خواجہ معین الدین‘ اشفاق احمد‘ کمال احمد رضوی‘ بانو قدسیہ اور منو بھائی مجموعی طو رپر نسبتاً زیادہ پسند ہیں- ہم عصروں میں عبدالقادر جونیجو‘ نور الہدیٰ شاہ‘ یونس جاوید‘ اصغر ندیم سید‘ حسینہ معین اور اطہر شاہ خاں کے ڈرامے اچھے لگتے ہیں

حرفِ تمنا
میرے اوپر تقدیر اور کاتب تقدیر بہت مہربان رہے ہیں- میں نے کبھی اس چیز کی خواہش یا تمنا نہیں کی جس کا میں مستحق نہ ہوں- اللہ تعالیٰ نے میری محنت کا صلہ میری خواہشوں سے بڑھ کر دیا مگر ایک ملال مجھے ہر وقت بے کل کیے رکھتا ہے کہ میرا معاشرہ‘ میرا ملک ‘ میری قوم جس کی خوبصورتی کے لئے میں نے بے پناہ خواب دیکھے اور اپنی سی کوششیں بھی کیں ‘اتنا خوبصورت نہیں ہے جتنا خوبصورت میں اسے دیکھنا چاہتا تھا- خدا سے دعا ہے کہ وہ اسے میرے خوابوں جتنا خوبصورت بنا دے اور مجھے بھی توفیق بخشے کہ میں اس کے حسن کو سنوارنے‘ نکھارنے میں بھرپور کردار ادا کر سکوں-


 

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig