logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

کچھ اپنے بارے میں

آج تک تو میں نے کسی سے اصلاح نہیں لی البتہ کالج کے زمانے میں رواج ہوتا ہے کہ اگر کوئی طالب علم کہیں نظم وغیرہ سنانے جائے تو اپنے استاد سے اصلاح لے مگر مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی اپنا کلام پڑھنے سے پہلے کسی کو دکھایا ہو
اس دور کے بڑے بڑے بزرگ شاعر تو اب اس دنیا میں نہیں ہیں مثلاً حفیظ جالندھری‘ احسان دانش‘ صوفی تبسم‘ ناصر کاظمی اورمجید امجد وغیرہ کو میں نے مختلف مواقعوں پر سنا- اسی طرح مختار صدیقی سے مجھے بہت لگاﺅ تھا وہ ایک فاضل آدمی تھے انہیں کلاسیکی شاعری کا بے حد شوق تھا- میں اگرچہ اس زمانے میں نو آموز تھا مگر بڑے بڑے شعراءکے برابر سٹیج پر بیٹھنے کا اعزاز ضرور حاصل ہوا پھر اس وقت مجھ سے جو ذرا سینئر شاعر تھے ان میں شہزاد احمد‘ احمد فراز اور ظفر اقبال وغیرہ ہیں لیکن میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ شاعری کے میدان میں مجھے مستحکم کرنے یا پابند کرنے میں اگر کسی کا کوئی مثبت حصہ ہے تو وہ احمد ندیم قاسمی ہیں جنہوں نے میرے ساتھ مشفقانہ برتاﺅ کیا اور بزرگانہ رہنمائی کی جس سے میری بڑی حوصلہ افزائی ہوئی- کیونکہ جب میں ففتھ ائیر میں داخل ہوا تو ان دنوں ستمبر کی جنگ نئی نئی بند ہوئی تھی- اورینٹل کالج میں اسی جنگ کے حوالے سے ایک مشاعرہ کیا گیا اس میں‘ میں نے ایک نظم پڑھی وہاں پر قاسمی صاحب بھی تشریف فرما تھے- جب فنکشن ختم ہوا تو قاسمی صاحب میرے پاس سے گزرے- میں ان کے احترام میںایک طرف کو ہوگیا مگر قاسمی صاحب قریب سے گزرنے کی بجائے میرے پاس رک گئے اور کہنے لگے- ”آپ نے بڑی اچھی نظم پڑھی ہے-“ میں نے ان کا بڑی انکساری سے شکریہ ادا کیا-پھر وہ مجھ سے کہنے لگے ”کیا آپ یہ نظم مجھے عطا کرسکتے ہیں-“ اب ایک بڑے آدمی کی طرف سے میرے لئے ”عطا“ کے لفظ کا استعمال بڑا عجیب سا تھا لہٰذا میں گھبرا سا گیا- وہ کہنے لگے- ”میں فنون کے نام سے ایک رسالہ نکالتا ہوں شاید آپ نے دیکھا ہو لہٰذا یہ نظم مجھے دے دیں-“ اس وقت میری دوڑ صرف کالج کے میگزین یا ”قندیل“ اور ”چٹان“ تک تھی- اب ظاہر ہے ”فنون“ میرے تصور سے بہت آگے کا رسالہ تھا- بہرکیف گھبراہٹ کے عالم میں‘ میں نے انہیں نظم دے دی- پھر انہوں نے مجھے پرچہ بھجوایا اور ساتھ ہی حوصلہ افزائی کا خط بھی تھا جس میں لکھا تھا ”میں نے بزرگی کا لائسنس لیتے ہوئے اور آپ سے عمر میں بڑاہونے کے ناتے سے یہ سمجھتے ہوئے کہ آپ مجھے اجازت دے دیں گے ایک لفظ بدلا ہے- ”شرافت اور راہنمائی کی جو یہ سطح ہے اب کہیں دیکھنے میں نہیں آتی- مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ شاید اپنی جنریشن میں قاسمی صاحب کے علاوہ یہ خوبی مجھے کسی اور شخص میں نظر نہیں آئی جو اپنے سے چھوٹوں کی نہ صرف ہمت افزائی کرے بلکہ ان کی رہنمائی کی بھی کوشش کرے لہٰذا قاسمی صاحب کا وہ خط لکھنا اور نظم کا چھپنا بھی میرے کیریئر میں ایک بہت بڑا واقعہ ہے- یعنی جب قاسمی صاحب جیسا بڑا شاعر ہر مرتبہ آپ کو خط لکھے کہ آپ کی نظم نہیں آئی میرا پرچہ تیار ہے مگر آپ کے لئے روکا ہوا ہے (ظاہر ہے پرچہ کوئی کسی کے لئے نہیں روکتا) لیکن کسی کا یہ کہہ دینا ہی دوسرے کے لئے بہت کافی ہوتا ہے- یہ واقعہ بھی مجھے قاسمی صاحب کے بہت قریب لے گیا پھر میں نے ان کے پاس بیٹھنا شروع کیا اور انہیں اپنی نظمیں سنانا بھی شروع کیں- قاسمی صاحب میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ کسی سے نظم سننے کے دوران وہ کچھ نہیں کہتے تاہم اگر کسی جملے میں کوئی لفظ غلط استعمال ہوگیا ہو تو بڑے طریقے سے ایک بات کر دیتے ہیں- اب یہ دوسرے پر منحصر ہے کہ اگر وہ اس بات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اٹھا لے- بہرکیف قاسمی صاحب کی صحبت سے مجھے بہت فائدہ ہوا- اس سے میرے اندر یہ تبدیلی پیدا ہوئی کہ میں نے کلاسیکل شاعروں کو پڑھنا شروع کر دیا- میں سمجھتا ہوں ایم اے اردو کی میرے اوپر یہی عطا ہے کہ میرا رجحان کلاسیکل کی طرف ہوا اور حتی الامکان کلاسیکل شاعری سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے- میں اپنے بعد کے آنیوالے نوجوانوں سے بھی یہی کہوں گا کہ کلاسیکل کا مطالعہ کئے بغیر محض فیشن میں آ کر اسے کبھی مسترد نہ کریں- ہمارا یہ ایک انداز بن گیا ہے کہ ”جی ان کو کیا پتہ تھا وہ تو پرانے جاگیرداری نظام کے پروردہ تھے- ایسے ہی شراب پیتے رہتے تھے‘ عورتوں کی باتیں ہی کرتے رہتے تھے وغیرہ وغیرہ-“ میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ اس قسم کی باتیں کر کے پورے کلاسیکل کو مسترد کر دیتے ہیں حالانکہ اگر ہم انہیں پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں فلسفے‘ نفسیات اور انسانی فطرت کو سمجھنے اور پرکھنے کی کس قدر صلاحیتیں تھیں- پھر یہ بھی کہ ان میں کس حد تک سیاسی شعور تھا
میں نے فیض صاحب کو دیکھا ان کی شفقت میں کوئی کمی نہیں‘ وہ چھوٹوں سے شفقت بہت کرتے تھے لیکن ایک تو وہ زیادہ ترپاکستان سے باہرہی رہے پھر ان کا اپنا بھی ایک اسٹائل تھا کہ وہ عام زندگی میں بھی کم بولتے تھے علاوہ ازیں ان کا اپنا ایک گروہ تھا ‘ایک خاص انداز کی محفل تھی-میرے پاس وہ لوازمات نہیں تھے جو اس محفل کے لئے بہت ضروری ہوتے تھے- اس کے علاوہ بالمشافہ ملاقاتوں سے بھی بہت فرق پڑتا ہے-اب ایک آدمی غائبانہ یا روحانی ڈاک سے تو آپ کی راہنمائی نہیں کرسکتا- پھر ایک بات اور بھی ہے مثلاً جو شخص آپ سے محبت کرتا ہے تو آپ کا دل بھی اسی کی طرف مائل ہوتا ہے- ایک حدیث کا مفہوم بھی کچھ اسی طرح سے ہے- ”اگر تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہیں پسند کریں تو ان سے اچھی اچھی باتیں کرو-‘مثلاً ہمارے کچھ بزرگ یوں تو بہت اچھے تھے مگر بطور گائیڈ یا شاعری میں ان کے پاس رہنمائی کرنے کی صلاحیت نہیں تھی لیکن یہ کوئی ایسی بات بھی نہیں- بے شمار لوگوں میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی -کچھ اپنی طبیعت کے اکھڑ پن کی وجہ سے اور کچھ بزرگ بھی انا پرست اور خود پرست تھے- ان میں مغروری بھی تھی لہٰذا اس قسم کے لوگوں سے تو ہماری بنی نہیں چنانچہ اگر انہوں نے مجھے کچھ نہیں دیا تو میں نے بھی انہیں کچھ نہیں دیا
 

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig