logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

امجداسلام امجد __ فکر و فن
انور مسعود

”ہم تو نکلے تھے ہاتھوں پہ سورج لئے- رات کیوں ہو گئی- ہم بھی سوچیں ذرا‘ تم بھی سوچو ذرا-“ اس کی دعائیں وطن کے لیے وقف ہیں- ”کوئی چراغ بجھے یا جلے مولا -مرے وطن کی فصیلوں میں روشنی رکھنا-“ امجد نے عہد حاضر کے فرعونوں‘ نمرودوں‘ قارونوں اور ہامانوں کی سیہ کاریوں اور ستمرانیوں کی ڈٹ کر مذمت کی ہے-
امجد کی تھکن میں بھی بلا کا حوصلہ ہے- وہ خوش بینی کا سفیر ہے- وہ حوصلہ انگیز لہجے میں کہتا ہے:
دلوں کی روشنی بجھنے نہ دینا
وجودِ تیرگی محکم نہیں ہے
اسے یقین ہے کہ ہو رہی ہے ایشیا میں ظلم کے سورج کی شام- اس کا ایمان ہے کہ رات اپنے سیاہ پنجوں کو جتنا بھی دراز کرلے کہیں سے سورج ضرور نکل پڑے گا- امجد کی شاعری کے پرچم پر زبونیِ احوال کو سنوارنے کا پختہ عزم لکھا ہوا ہے-
امجدکے موضوعات کا پھیلاﺅ بھی محبت کے پھیلاﺅ کی طرح ہے- اس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور لکھا جائے گا- میں نے اس کی نظم کی فنی حیثیت کے بارے میں شروع میں جو بات کی تھی پھر اس کی طرف پلٹتا ہوں-
آزاد نظم تو توسیع کا ایک عمل تھا- کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے- لیکن اس کے نادان طرفداروں نے اسے تحدید کا روگ لگا دیا اور یہ آزادی ان کے لیے سامانِ شیون ہو کر رہ گئی- اس کے برعکس امجدنے واقعی اس سے توسیع کا کام لیا ہے- امجد کی یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ وہ پہلی لائن سے لے کر آخری لائن تک ترسیل اور ابلاغ کے سلسلے کو قائم رکھتا ہے- اور نظم کو آخر تک سنبھالے رکھتا ہے- اسے معلوم ہے کہ نظم کو کہاں پر ختم کرنا ہے ورنہ بعض لوگوں کے ہاں تو نظم ختم ہوتے ہوئے پھر ایسی ڈٹ کے شروع ہو جاتی ہے کہ اللہ اپنی امان میں رکھے!
امجد کے ہاں ترقی پسندی کے بڑے صحتمند عناصر موجود ہیں لیکن وہ نعرہ بازی سے اپنے دامن کو بچا کے رکھتا ہے- اس کی نظموں میں کہیں کہیں مکالمہ بھی ہے اورسرپرائز بھی- اس کی ڈرامہ نگار کی حیثیت بالواسطہ طور پر اس کی شاعری کو تقویت پہنچاتی ہے لیکن یہ اثرات اس کے شعر کی بالائی سطح پر تیرتے دکھائی دیتے ہیں- اس کی للکار میں بھی ایک شعری حسُن موجود ہے لیکن یہ حسن ایسا نہیں جیسے دلھن نے اپنے دستِ حنائی میں تلوار پکڑ رکھی ہو-
رفتہ رفتہ امجد کی مشاقی اور مشاطگی اس مقام پر آپہنچی ہے کہ وہ ترکیبات کا سہارا لیے بغیر‘ جملوں کی سادہ سی ساخت میں بساطِ نظم پر بڑے بلیغ استعارے اور کنائے سجا دیتا ہے- وہ براہ راست بھی جو کچھ کہتا ہے سلیقے سے کہتا ہے لیکن اشارہ اور کنایہ تو اس کی شاعری کی جان ہے- غالب نے ایک خط میں لکھا ہے کہ شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ فردوسی بن جائے اور فردوسی کا کمال یہی ہے کہ کنایہ اس کے ہاں اپنی معراج پر ہے- امجد کے ہاں اس قرینے کا استعمال بڑی داد کا مستحق ہے-
کوئی چراغ بجھے یا جلے مگر مولا ‘ مرے وطن کی فصیلوں میں روشنی رکھنا
٭
مجھے یاد ہے تم بہت دیر تک میرے شانے پر موتی سجاتے رہے تھے
امجد کی نظموں میں احساسات کی تجسیم کا کرشمہ بھی بہت طلسم خیز ہے- اس کے دریائے طبیعت سے اٹھنے والی نظموں کی موجوں میں بلا کی روانی ہے-
امجد کی نظموں کے کئی ایک ابتدائیوں میں مجھے پروفیسر امجد کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور ایک ناصحانہ اور شفیق تدریسی لہجہ محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے مطالعے‘ مشاہدے اور تجربے سے حاصل شدہ موتی نئی نسل کی جھولی میں ڈال رہا ہو-طلبا سے خطاب کی رعایت سے میں نے کچھ سابقے نظموں کے ابتدائیوں میں قوسین میںلکھ دیئے ہیں- ملاحظہ فرمائیے:
(عزیزمن) محبت کی طبیعت میں یہ کیابچپنا قدرت نے رکھا ہے-یہ جتنی بھی پرانی‘ جس قدر مضبوط ہو جائے-اسے تائیدِ تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے-
(عزیزو سن رہے ہونا) محبت ایسا دریا ہے کہ بارش روٹھ بھی جائے تو پانی کم نہیں ہوتا-
نفسیاتِ محبت کے بیان کے بعد نصیحت کا پیرائیہ دیکھئے:
(میرے عزیزو) گئے ہوﺅں کی تلاش کار ِفضول ہے کہ سراغِ رفتہ کسے ملا ہے
یہ تم جو آنکھوں میں آرزوﺅں کے جھلملاتے چراغ لے کر
سیاہیوں میں بھٹک رہے ہو- تمہی بتاﺅ
زمین ِمردہ سے کوئی غنچہ کبھی کھلا ہے؟
(عزیز بچو!) ہم اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھے فنا کے رستے پہ چل رہے ہیں
(عزیزو بس یہ کہنا ہے) اگر کوئی کہے ”میں نے ہوا کو مٹھیوں میں بند دیکھا ہے
زمیں ساکن ہے- دنیا اک مثلث کی طرح ہے
روشنی آنکھوں کا دھوکا ہے... تو مت کہنا وہ جھوٹا ہے-
(غور سے ذرا سننا) کیا عجیب قصہ ہے- اس زمین کے نقشے پر- جو غریب قومیں ہیں‘ ان کے پاس جو کچھ ہے-جتنے زور والے ہیں‘ سب انہی کا حصہ ہے- کیا عجیب قصہ ہے-
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ امجد کے ہاں یہ دلکش تدریسی آہنگ بہت ابھرا ہوا ہے- شاید اس لیے کہ نژاد نو کو برا بھلا سمجھانے کے لیے اس کے پاس بہت کچھ ہے- میں امجد سے پوری طرف متفق ہوں کہ آرٹ تو پیشکش کا نام ہے- کھلی نعرہ بازی اور نرا وعظ دنیائے ادب میں کوئی اعتبار حاصل نہیں کرسکتا- امجد نے واشگاف لہجے سے حتی الامکان گریز کیا ہے

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig