


امجداسلام امجد __ فکر و فن
انور مسعود
اس کی
کچھ ترکیبات ملاحظہ فرمائیے- سرِ رہگذارِ شب‘ شعبدہ بازیِ آئینہِ احساس‘ گماں آباد
ہستی‘ زینتِ چشم بے خواب‘ شناسائے نوکِ خار‘ نواحِ ساحلِ غم‘ رونقِ ایوانِ تمنا‘
حدیثِ نغمہءبے صدا اور لرزشِ چشمِ نیم وا وغیرہ- آپ نے دیکھا کہ امجد کے اسلوبِ
ترکیب سازی میں کیسی بہارِ عجم دکھائی دیتی ہے-
امجد کے ہاں میں نے کچھ ایسے مصرعے بھی ڈھونڈ نکالے ہیں جو پور ے کے پورے فارسی کے
ہیں- مثال کے طور پر برہنہ پا و شکستہ رنگ و غبار برسر‘ سیاہ پیکر- بہ پیش خدمتِ
چشمِ سراب آلودہ- چوب ِنارِ سفر‘ اعتبارِ نظر‘ اے دلِ بے بصر-المدد المدد‘ مونس
بیدلاں‘ یا نبی یا نبی!
یہ تو فارسی کی بات تھی- امجد ماشاءاللہ عربی میں ایسا طاق ہے کہ کئی نوزادگان کے
کان میں اذان کہہ چکا ہے اور اذان سے یاد آیا کہ امجد کی غزلوں اور نظموں کا کوئی
مجموعہ ایسا نہیں جس کا آغاز حمد و نعت سے نہیں ہوا - اس کے یہاں ہماری فکری تہذیبی
روایت کا شعور بہت گہرا اورجامع ہے- امجد کہتا ہے- کتنے ہی بے جہت نہ ہو جائیں اپنا
رشتہ تو ہے خدا سے ہی- ہدیہ نعت کی ایک جھلک دیکھئے:
محمد مصطفی صل علیٰ کے نام کی خوشبو
دلِ وحشت زدہ کے ہاتھ پر یوں ہاتھ رکھتی ہے
تھکن کا کوہِ غم ہٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے
سفر کا راستہ کٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے
فتح محمد ملک اس ضمن میں لکھتے ہیں:
”امجد کی تمناﺅں کی کھیتی نسبتِ محمدی سے ہری ہے چنانچہ ’ساتواںدر‘ ہی نہیں بلکہ
’برزخ‘ کا آغاز بھی حمد‘ نعت اور سلام سے ہوتا ہے- یہاں حمد‘ نعت اور سلام اپنے
گناہوں کے کفارے کے طور پر موجودنہیں بلکہ پوری تخلیقی شخصیت کی سر نوشت بن کر
جگمگا رہے ہیں- یہ بے عملی اور بد عملی کی رسیا شخصیت کا کارِ ثواب نہیں بلکہ اپنے
عہد کے یزیدوں کے خلاف داد شجاعت دینے والے مجاہد کی برہنہ شمشیریں ہیں-“
امجد کے ہاں وقت کو دیکھئے تو والعصران الانسان لفی خسرکی تفسیرشعروں میں ڈھلتی
ہوئی محسوس ہوتی ہے- امجد کے بقول زندگی کھلونوں کی ایک دکان ہے جس میں وقت بگڑا
ہوا بچہ ہے - اس زود گذر زور آور اور اختیار مند کے آگے کسی کا کوئی بس نہیں چلتا :۔
وقت سے کون کہے یار ذرا آہستہ!
٭
نہیں کوئی عکس بھی مستقل سرِ آئنہ اسے بھول جا
٭
فنا کی چال کے آگے کسی کی کچھ نہ چلی
بساطِ دہر سے اٹھے حسابداں کیا کیا
٭
دمبدم بجھتے ہوئے لمحوں کے آتشدان میں
معجزوں سا حسن خاکستر ہوا
٭
وہ مِرا سیلِ طلب ہو کہ تری رعنائی
چڑھا ہے جو بھی سمندر اسے اترنا ہے
٭
ہمیں معلوم ہے اک دن
گزرتے وقت کی دیمک ہمیں بھی چاٹ جائے گی
کہ یہ اس کا وظیفہ ہے
امجد زندگی میں ڈی پارچرکی صورتیں جگہ جگہ دیکھتا ہے- وہ
سمجھتا ہے کہ وقت کی اس بے محابا یلغار کے سامنے اگر کوئی چیز ڈھال بنتی ہے تو وہ
صرف اور صرف محبت کا عملِ خیر ہے:
محبت ایسا شعلہ ہے
ہوا جیسی بھی چلتی ہو
کبھی مدھم نہیں ہوتا
یہی آگ ہے جو امجد کے کلام میں اُفق تا افق شعلہ در شعلہ دکھائی دیتی ہے- امجد محبت
کی ابدیت میں یقین رکھتا ہے- اس کے نزدیک محبت کا موسم سب سے نرالا ہے- محبت کے خطے
کی آب و ہوا ان عناصر سے ماورا ہے جو موسموں کے تغیر کی بنیاد بنتے ہیں-
امجد کے موضوعات کی بات چلی ہے تو اس ضمن میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ اس کی نظمیں
خواب ہی خواب ہیں اور گیت سپنے ہی سپنے- وہ خواب بھی جو چکنا چور ہوئے جن کی
تعبیریں بنجر سالوں میں محبوس ہو کر رہ گئیں اور وہ سہانے سہانے خواب بھی امجد جن
کی تعبیروں کی جستجو میں ہے- وہ خواب وطن کے بارے میں بھی ہیں اور دنیا کے سارے
انسانوں کے بارے میں بھی- بقول سید عبد اللہ مرحوم امجد ماضی‘ حال اور مستقبل کے
خوابوں کا مسافر ہے- وطن کے بارے میں خوابوں کے حوالے سے امجد خود خوابوں کا ایک
وطن ہے

