logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

امجداسلام امجد __ فکر و فن
انور مسعود

فیض صاحب نے امجد کے دوسرے شعری مجموعے ’ساتواں در‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا:
”امجد صاحب چونکہ طبعاً جدت پسند واقع ہوئے ہیں ا س لئے انہیں نظم کی صورت میں آہنگ و اظہار کے نئے پیرائے بروئے کار لانے میں زیادہ کامیابی ہوئی ہے- یہ نظمیں بہت خلوص اور سہولت سے لکھی گئی ہیں-“
میں سمجھتا ہوں کہ اس عبارت میں ’سہولت‘ کا لفظ کلیدی لفظ ہے- یہ سہولت بڑی جانگسل ریاضت کے بعد پیدا ہوتی ہے اور ہمیں ریاضت کی توفیق بھی اسی کی بارگاہ سے ارزانی ہوتی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بیان سکھایا ہے- امجد بڑی جانفشانی اور عرقریزی سے نظم کی لائنیں سنوارتا ہے- خیال رہے کہ نظم کی لائن اور غزل کے مصرعے میں بڑا باریک سا فرق ہوتا ہے- امجد روایتی شعری عناصر سے بھی بھرپور استفادہ کرتا ہے اور اسے نظم کی لائن بھی رہنے دیتا ہے-
’امجد ستّر کی دہائی میں ابھرنے والا وہ ممتاز ترین شاعر ہے جس نے لسانی تشکیلات کے ہنگامے میں اپنی سلامتیِ طبع کو قائم رکھا- یہ وہ دور تھا جس میں قافیے کو اچھوت قرار دے کر نظم سے بے دخل کر دیا گیا تھا اور نظم کی نغمگی گھائل ہو کر رہ گئی تھی- امجد کو اس بات کا شدید احساس رہا کہ زیادہ پائدار چیزیں تجربے اور روایت کے امتزاج سے جنم لیتی ہے- امجد کے ہاں روایت کے بہترین عناصر کا تخلیقی استعمال دکھائی دیتا ہے- احمد ندیم قاسمی صاحب لکھتے ہیں- ”امجد ان چند شعرا میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی آزاد نظموں کو بھی روایت کے ساتھ بڑے حسن اور سلیقے سے وابستہ رکھا-“
میں سمجھتا ہوں کہ امجد کا کمال یہی ہے کہ اس نے پابند نظم سے ایسا انحراف کیا ہے جو انحراف محسوس نہیں ہوتا -یہی غیر محسوس انحراف امجد کا گُلِ دستار ہے- اس کی آزاد نظموں میں قافیے کی ایسی دف بج رہی ہے کہ سماعتیں جھوم جھوم جاتی ہیں- یہ طلسم کار نظم میں قافیے بھی ایسے لاتا ہے جن کی موسیقی نظم کے مجموعی موڈ سے ہم آہنگ ہوتی ہے- قافیے کے اس ہنر مندانہ استعمال کے ساتھ امجد کے ہاں بعض لائنوں کے ٹکڑوں کی ایسی تکرار ہے جو تاثیر کو دو آتشہ کر دیتی ہے اور یہ بلاشبہ اقبال اور راشد کے دبستان ہنر کا فیض ہے- امجد کی پسندیدہ بحر میں اس کی دو مثالیں دیکھئے:
یہ جو ریگِ دشتِ فراق ہے یہ رُکے اگر
یہ رکے اگر تو نشان ملے- یہ نشان ملے
کہ جو فاصلوں کی صلیب ہے
یہ گڑی ہوئی ہے کہاں کہاں!
مرے آسماں سے کدھر گئی ترے التفات کی کہکشاں
میرے بے خبر‘ مرے بے نشاں
یہ رُکے اگر تو پتہ چلے
میں تھا کس نگر تو رہا کہاں!
کہ زماں مکاں کی یہ وُسعتیں
تجھے دیکھنے کو ترس گئیں
(وہ مِرے نصیب کی بارشیں
کسی اور چھت پہ برس گئیں)
٭
میں ہوں جس مکان کی چھت تلے
مرا گھر نہیں
ترا نام درج ہے جس جگہ
ترا در نہیں
تجھے یاد ہے!
تجھے یاد ہے کسی شام ہم نے بنایا تھا
کہیں ایک چھوٹا سا ریت گھر
اُسی ریت سے‘ اسی ریت پر
(اُسی ریت پر
جو تھی راہ میں کسی موج کے
کبھی اپنے ہونے کے دھیان میں
کبھی معجزوں کے گمان میں)
پروفیسر جلیل عالی کی غزل میں بے اضافت ترکیب کا جو شعوری اور باقاعدہ استعمال ہے‘ امجد کی ابتدائی نظموں میں ملاحظہ فرمائیے- نگار کوچے‘ بہار موسم‘ خیال شبنم‘ سوال آنکھیں بھی جا بجا دکھائی دیتی ہیں- چاند آہٹ اور دکھ سمندر اس کی کیسی خوبصورت مثالیں ہیں-
میں فارسی کا ایک طالب علم ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ فارسی زبان و ادب سے رابطہ اپنی روایت سے رابطہ کے مترادف ہے- اردو کے شاعر کا اگر یہ رابطہ کمزور پڑ جائے تو شعر کی رعنائی پر اوس پڑ جاتی ہے- امجد کے یہاں اس رابطے کی محکمی دیکھ کر مجھے بے انتہا مسرت ہوتی ہے- اس کے کلام کی دلآویزی میں اس رابطے کا بھی بڑا حصہ ہے-

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig