logo
سرِ ورق
اگلا صفحہ
پچھلا صفحہ
فہرست
divider
divider

امجد اسلام امجد __محبت کا شاعر
پروفیسر عبدالخالق تنویر
۔2۔

ٹی ایس ایلیٹ نے اپنے مضمون ”شاعری اور پروپیگنڈا“ میں نظریہ اور فن کے ضمن میں ایک قابل غور بات کہی ہے-
”یہ بات واضح رہے کہ کوئی نظام یا کوئی بھی نظریہ حیات جو عظیم فن کو پروان چڑھائے ہمارے لئے بمقابلہ اس نظام یا نظریہ حیات کے جو کمتر درجے کے فن کو جنم دے یا پھر سرے سے کسی فن کو ہی جنم نہ دے‘ زیادہ قابل قبول ہے-“
(نیا دور- شمارہ ۰۶۶-۵۶)
امجد نے معروف نظریاتی گروہوں سے ناوابستہ رہ کر جس طرح اپنے خیالات کو شعری پیکر عطا کئے ہیں‘ انہوں نے ایک طرف اسے خول میں بند ہونے سے بچا لیا تو دوسری طرف متنوع خیالات کو فنی سچائیوں کے ساتھ ماہرانہ انداز میں پیش کرنے کے قابل بھی بنا دیا- اس طرح امجد اس یکسانیت سے محفوظ رہا جس نے کئی اچھے اچھے شعراءکو ایک دائرے کی لاحاصلیت کا شکار بنا دیا-
شاعری یا فن کی کوئی بھی صورت اپنی ذات کے حوالے سے خارج کے ادراک اور انہیں باہم مربوط کرنے کا نام ہے- ذات کے اندر پھیلی ہوئی دنیا‘ اس کے اندر اٹھنے والے طوفانوں اور پیدا ہونے والی متضاد کیفیات کو سمجھنا اور اسے خارج سے منسلک کرکے فنی اظہار کی زبان دینا شاعر کا منصب ہے- فنکارانہ سطح پر امجد کی کومٹمنٹ کا یہ کرشمہ ہے کہ وہ بیک وقت فن کی کئی جہتوں میں سفر کرتا رہتا ہے-ا س کے تخلیقی عمل کا پھیلاﺅ اس کے اندر سے جواہر ریزوں کو چن کر قاری کے سامنے پیش کر دیتا ہے- یہ سارا عمل جہاں فنکار کے لئے اہتزاز و شادمانی کا باعث ہوتاہے وہاں سخن فہم قاری کو بھی اسی سطح پر پہنچا دیتا ہے- اس کے دھنک رنگ موضوعات جذباتی سطح پر فنکار اور قاری کے فرق کو مٹا دیتے ہیں- قاری اس کے موضوعات‘ تمثیلوں اور اس کے لفظیات میں اپنے ان خوابوں کی تعبیر دیکھتا ہے جن کی سرگوشیاں تو اس نے سنی ہوتی ہیں لیکن ان کے لفظی پیکر تراشنا اس کے بس کا روگ نہیں ہوتا- امجد کی نظم ”نئے لفظوں کی خوشبو“ اس کی فنکارانہ امنگوں اور اظہارانہ نارسائی کے احساس کی مظہر ہے- یہی وہ احساس ہے جو کسی فنکار کو اپنی کاوشوں پر مطمئن ہو کر مرنے کی بجائے نہ صرف زندہ رکھتا ہے بلکہ اس کی خلاقانہ لو کو مزید تیز کر دیتا ہے- اس نظم کا آخری بدن ملاحظہ کیجئے :
میں ایسے لفظ لکھوں گا جو سب کے دل میں ہیں
فقط وہ بات کروں گا جو سب سمجھتے ہوں
اور ایسے رنگ چنوں گا جو میری گِل میں ہیں
زندگی اور اس کی رعنائیوں کا اسیر فنکار تاریکی‘ جبر‘ بدصورتی‘ نفرت‘ بے حسی اور ناانصافی کو قبول نہیں کرسکتا- وہ فنکارانہ سطح پر آمادہ پیکار رہتا ہے- حسن و خیر کے نغموں کے ذریعے پڑھنے والے کے ذوق جمال کی تربیت کرتا ہے- ظلم و جور کے خلاف نبرد آزما ہونے کا حوصلہ عطا کرتا ہے- امجد ہر بڑے فنکار کی طرح وطن اور اہل وطن کے خلاف روا رکھے جانے والے ستم اور گلیوں کی ویرانی پر کڑھتے ہوئے پکار اٹھتا ہے
تاریخ کے چکر میں وہ موڑ نہیں آیا
جب شاد مکیں ہوں گے آباد نگر ہوں گے
بڑا فنکار متاع لوح و قلم چھن جانے پر اظہار کی صورت گری کی راہ کسی نہ کسی طرح تلاش کر لیتاہے- امجد افکار پر لگے پہرے اور پنچھی کی سہمی صدا کا ذکر کرتا ہے تو وہ محض ایک ناگوار کیفیت یا بے ڈھب صورت حال کا سپاٹ اظہار نہیں ہوتا بلکہ بڑی چابکدستی سے درد میں لپٹے احتجاج میں قاری کو بھی شریک کر لیتا ہے
افکار پہ پہرا ہے قانون یہ ٹھہرا ہے
جو صاحب عزت ہے وہ شہر بدر ہوگا
سہمے ہوئے پنچھی کی آواز بتاتی ہے
اس کا بھی یہیں کوئی جلتا ہوا گھر ہوگا
امجد دھرتی سے محبت کا راگ بے سرے طریقے سے نہیں الاپتا- وہ حب وطن کا تاج سر پر سجا کر داد و تحسین کا آرزو مند رہا ہے نہ کسی انعام کا خواہاں- الفت و چاہت کا یہ رشتہ اس کی ذات میں مدغم ہے- وہ ہر ذی شعور انسان کی طرح شکستہ خوابوں اور پھیلتی نفرتوں کے پس منظر میں ابھرنے والی المناک تصاویر قاری کو دکھا کر اسے کچھ سوچنے پر آمادہ کرتا ہے
دروازوں پر پڑے ہوئے تھے ڈھیر شکستہ خوابوں کے
دالانوں میں نفرت کے آسیب نے ڈیرہ ڈالا تھا
گلیوں گلیوں بھٹک رہا تھا ایک سنہرا خواب جسے
میرے بڑوں نے اپنی لاکھوں امیدیں بیچ کے پالا تھا
امجد اسلام امجد کا آزاد نظم لکھنے والے ان شعراءمیں ایک معتبر نام ہے جنہوں نے اس صنف کو جمال و رعنائی بخشی- پابند نظم یا غزل کے توانا وجود کے مقابل آزاد نظم کو جو اعتماد و اعتبار ملا وہ امجد جیسے شاعروں کا رہین منت ہے- امجد الفاظ کے محتاط انتخاب‘ ان کی ماہرانہ تنظیم و ترتیب‘ بعض مواقع پر پابند مصرعوں کا اہتمام‘ الفاظ کی تکرار اور قوافی کے التزام سے ایسا آہنگ پیدا کرتا ہے جو نظم کی فکری توانائی کے ساتھ مل کر قاری کو سحر زدہ کر دیتا ہے- نظم کو اس انجام تک پہنچانے میں فنکار کو تہذیب شعر کے جن جاں گسل لمحوں میں سے گزرنا پڑتا ہوگا اس کا اندازہ کچھ مشکل نہیں-
ایک مختصر نظم ”قاصد“ ملاحظہ کیجئے:
خوشبو کی پوشاک پہن کر
کون گلی میں آیا ہے!
کیسا یہ پیغام رساں ہے
کیا کیا خبریں لایا ہے!
کھڑکی کھول کے باہر دیکھو!
موسم میرے دل کی باتیں‘ تم سے کہنے آیا ہے
 

divider
divider
copyright©AmjadIslamAmjad.net2008
design_sig